.

امریکی محکمہ خارجہ وزیر اعظم کے دورۂ امریکا سے لاعلم؟

عمران خان کا دورہ امریکا، امریکی خفیہ ایجنسی بھی مشکل میں پڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ معلوم نہیں کہ وزیراعظم عمران خان اس ماہ امریکا کا دورہ کررہے ہیں۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مارگن آرٹاگس نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورے کی تصدیق وائٹ ہاؤس سے کی جائے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں وائٹ ہاؤس نے عمران خان کے دورے کی کوئی اطلاع نہیں دی سنا ضرور ہے، عمران خان کے دورے کے متعلق سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا، وائٹ ہاؤس سے رابطہ کر کے دورے کی تفصیلات حاصل کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دورے سے متعلق بیان آج جاری ہوگا۔واضح رہے کہ عمران خان کا 3 روزہ دورہ امریکا 21جولائی سے شروع ہوگا اور وہ 22جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ پاکستانی سفارتخانے نے اب تک عمران خان کے دورے کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔خیال کیا جارہا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ، مشیر تجارت اور کابینہ کے دیگر ارکان بھی وزیر اعظم کے ساتھ دورہ کرنے والے وفد کا حصہ ہوں گے۔

ادھر پاکستان کے وزیر اعظم کے متوقع دورہ امریکا کے موقع پر سادگی اور سرکاری اخراجات میں کمی کی پالیسی کے تحت واشنگٹن ڈی سی میں کسی مہنگے ہوٹل میں قیام کرنے کی بجائے پاکستانی سفیر اسد مجید خان کی سرکاری رہائش گاہ میں ٹھہرنے کی خبریں بھی گردش میں ہیں ۔ تاہم معاصر عزیز ’’ڈان‘‘ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکا کی خفیہ سروس سیکورٹی خدشات کے پیش نظر اس تجویز سے متفق نہیں ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کی سرکاری رہائش گاہ واشنگٹن کے پوش علاقے میں واقع ہے جو اتنی بڑی نہیں ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم اور ان کا پورا وفد وہاں قیام کر سکے۔ تاہم اگر عمران خان سفیر کی رہائش گاہ میں قیام کا فیصلہ کر ہی لیتے ہیں تو ان کے وفد میں شامل دیگر ارکان کو کسی اور جگہ ٹھہرانا ہو گا۔ اس صورت حال میں امریکی اہل کاروں اور دیگر شخصیات سے ملاقات کے لیے انہیں مسلسل پاکستانی سفارت خانے جانا ہو گا اور تین روز تک پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ اور سفارت خانے کے درمیان کے روٹ کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ یوں عمران خان کے کانوائے کی سیکورٹی کی خاطر امریکا کی خفیہ سروس کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔

ساتھ ہی یہ بھی سوچنا ہو گا کہ کیا تمام میٹنگز سفارت خانے میں رکھی جا سکتی ہیں۔ عام طور پر سفارت خانے میں ہونے والی میٹنگز سفیر کے دفتر کے ساتھ منسلک میٹنگ روم یا پھر کانفرنس روم میں ہوتی ہیں۔

عام طور پر سرکاری دوروں پر آنے والے غیر ملکی سربراہان اور ان کے وفد وائٹ ہاوس کے قریب ہی واقع ویلرڈ ہوٹل میں قیام کرتے ہیں اور ان کی زیادہ تر میٹنگز بھی یہیں ہوتی ہیں۔

کیا عمران خان امریکا میں جلسہ کر سکتے ہیں؟

عمران خان کے دورے کے دوران امریکا میں تحریک انصاف ایک خصوصی جلسے کا اہتمام بھی کر رہی ہے جس سے عمران خان خطاب کریں گے۔ امریکا میں پی ٹی آئی کے بعض ارکان سوشل میڈیا پر یہ پوسٹس لگا رہے ہیں کہ اس جلسہ عام میں بنا ٹکٹ ہر خاص و عام کو شرکت کی دعوت ہے۔ دعوت نامے میں جسلہ عام کیلئے 21 اپریل کو شام چار بجے کا وقت دیا گیا ہے۔ تاہم کہا گیا ہے کہ جگہ کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

یہاں ایک بار پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا عمران خان واشنگٹن میں جلسہ عام کر سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسا جلسہ صرف بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کیا تھا جو وزیرِ اعظم بننے کے بعد پہلی بار جب امریکا آئے تو اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد انہوں نے نیویارک میں بھارتی کمیونٹی کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا تھا۔

ہر سال مختلف ملکوں کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ شخصیات امریکی دارالحکومت آتے ہیں اور ان کے قیام کے دوران سیکورٹی کی تمام تر ذمہ داری امریکی خفیہ سروس اور آفس آف سیکورٹی پر عائد ہوتی ہے۔ سیکورٹی انتظامات شہری انتظامیہ کے ساتھ مل کر کیے جاتے ہیں کیونکہ شہری انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی اعلیٰ شخصیت کے دورے سے شہر کے باسیوں کے لیے کوئی دشواری پیدا نہ ہو۔

ڈان نیوز کے مطابق امریکا کی خفیہ سروس اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی انتظامیہ دونوں ہی پاکستانی وزیر اعظم کے سفیر کی رہائش گاہ پر قیام سے مطمئن نہیں ہیں۔ تاہم اگر وہ سفیر کی رہائش گاہ پر قیام کرنے کے ارادے پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو انہیں امریکی خفیہ سروس اور آفس آف سیکورٹی کو تحریری طور پر اطلاع دینا ہو گی۔

لیکن چونکہ واشنگٹن میں قیام کے دوران قانونی طور پر سیکورٹی کی ذمہ داری امریکی خفیہ سروس اور آفس آف سیکورٹی کی ہوتی ہے لہذا یہ امکان کم ہے کہ وہ اس بات پر راضی ہو سکیں گے۔ یوں غالب امکان یہی ہے کہ عمران خان کو اپنے قیام سے متعلق فیصلہ بدلنا پڑے گا۔