.

امریکا، فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مصالحت نہیں بلکہ سہولت کار ہے: گرین بیلٹ

تنازع کا حتمی حل وہی ہوگا جسے دونوں فریق قبول کریں گے: مشرق وسطیٰ کے لئے امریکی ایلچی کا ’العربیہ‘ کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی جیسن گرین بیلٹ نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعات میں مصالحت نہیں بلکہ سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس تنازع کے حل کے لیے جادو کی چھڑی نہیں جس سے مسئلے کا کرشماتی حل تلاش کیا جا سکے۔ وہ 'ٹویٹر' کے ذریعے فلسطینی اتھارٹی پر اس لیے تنقید کرتے ہیں کہ اتھارٹی دہشت گردی کی مذمت میں ناکام رہی ہے۔

جیسن گرین بیلٹ نے ان خیالات کا اظہار 'العربیہ' اور الحدث ٹی وی چینلز سے واشنگٹن میں خصوصی بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے سامنے اپنا امن پروگرام پیش کرکے ان کا ردعمل اور تحفظات جاننے کی کوشش کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں گرین بیلٹ نے صدرعباس پرغیرطمشروط مذاکرات کی طرف واپسی پرطزور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازع کے حل کے لیے معاشی پروگرام کے ساتھ سیاسی پروگرام پیش کرنے کا بھی پابند ہے تاکہ دونوں پروگراموں کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ مکمل کیا جا سکے۔ معاشی امن سیاسی مسائل کے حل کے بغیر مُمکن نہیں۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو امریکا کا مشرق وسطیٰ‌ کا امن منصوبہ زیر غور لانا ہو گا۔

گرین بیلٹ نے کہا کہ بعض لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اقتصادی منصوبہ فلسطینیوں کے لیے رشوت ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب تک فلسطینیوں کے معاشی حالات بہتر نہیں کیے جاتے اس وقت تک سیاسی مسائل کے حل میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں‌ ہو سکتی۔

گرین بیلٹ نے کہا کہ معاشی پروگرام کی کامیابی کے لیے سیاسی پروگرام کی کامیابی بھی ضروری ہے اور ہمارے پیش کردہ امن پلان سے فریقین کے اتفاق رائے سے مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں میں‌ بتایا گیا ہے کہ فلسطینی قیادت امریکا کے مجوزہ امن منصوبے'صدی کی ڈیل' کے حوالے سے اب غور کی تیاری کر رہی ہے۔ معاصر عرب اخبار'الشرق الاوسط' کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے امریکا کو مثبت اشارے دیئے گئے ہیں۔

عبرانی اخبار'یسرائیل ھیوم' نے رام اللہ اتھارٹی کے ایک سینیر عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ رام اللہ اور واشنگٹن کے درمیان ’نرم خو‘ پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ محمود عباس کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے مشیر جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی جیسن گرین بیلٹ کے بائیکاٹ ختم کرنے اور امریکی قیادت کے ساتھ رابطے بحال کرنے پرغور شروع کیا۔ اسی سلسلے میں فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس چیف ماجد فرج عن قریب واشنگٹن کا دورہ بھی کریں گے۔