.

فایز سراج نے بنغازی کے’ خیانت کاروں‘ میں رقم تقسیم کی: المسماری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبی فوج کے ترجمان احمد المسماری نے خود پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےبتایا کہ اسپیشل فورس کے سابق کمانڈر کی تدفین کے موقع پر ہونے والے دھماکے کے بعد جائے حادثہ پر ہنگائی آرائی شروع ہو گئی۔ احمد المسماری نے نیوز کانفرنس میں دھماکے کے وقت ریکارڈ کی ویڈیو بھی دکھائی۔

انھوں نے استفسار کیا کہ بنغازی میں معرکہ کامیاب کے بعد دہشت گردی کیسے علاقے میں اپنی راہیں بنانے میں کامیاب ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ بنغازی کے ’خیانت کاروں‘ ایسی کارروائیوں کے لئے بھاری رقم پکڑی ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ طرابلس میں فایز السراج کی قائم قومی وفاق کی حکومت بھی دہشت گردوں میں غیر قانونی رقوم تقسیم کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی بھی اس دھماکے کا ذمہ داری ہے کیونکہ قومی وفاق حکومت میں شامل قائدین ترکی میں مقیم ہیں۔ طرابلس میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی لڑائی قانونی ہے۔

فوجی ترجمان نے مزید کہا کہ طرابلس میں ہم القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں میں فرق نہیں دیکھتے۔ انھوں نے لیبیا کے تمام شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی تمام دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ یہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے جس نے ملک کو دہشت گردوں کے حوالے کیا۔

جمعرات کے روز کم سے کم چار افراد اس وقت جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب مشرقی لیبیا کے شہر بنغازی میں بارود سے بھری گاڑی سابق سینیر فوجی افسر کے جنازے میں پھٹ گئی۔

فوجی ذرائع کے مطابق بنغازی کے الھواری قبرستان میں ہونے والا جنازہ اسپشل فورس کے سابق کمانڈر خلیفہ المسماری کا تھا جو دو روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ نماز جنازہ میں اسپیشل فورس کے کمانڈر ونیس بوخمادہ بھی شریک تھے، تاہم وہ دھماکے میں محفوظ رہے۔