.

استنبول کے میئر سے منسوب شامیوں کے خلاف من گھڑت ٹویٹ نے تنازع کھڑا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں میڈیا ویب سائٹوں نے استنبول شہر کے میئر اکرم امام اوغلو کی اُس ٹویٹ کی تردید کر دی ہے جس کو تقریبا 2600 مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا اور اسے 23 ہزار سے زیادہ لائیکس ملے۔ ٹویٹ میں کہا گیا کہ "ترکی کا 70 سالہ شہری بازار میں لیموں فروخت کرتا ہے جب کہ ایک 20 سالہ شامی نوجوان بلدیہ سے تنخواہ وصول کر رہا ہے اور ساحل سمندر پر جا کر پائپ پیتا ہے"۔

اس ٹویٹ نے بڑا تنازع پیدا کر دیا جس پر میڈیا اس کی تردید کرنے پر مجبور ہو گیا۔ بالخصوص جب کہ اوغلو نے اپنے سابقہ بیان میں ترکی میں شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنی مکمل سپورٹ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شامی پناہ گزینوں کے لیے انسانی بنیادوں پر معاشی حالات ان کی ولین ترجیحات میں ہے۔

بدھ کے روز ایک ریڈیو چینل "Best FM" کو دیے گئے انٹرویو کے دوران اوغلو نے واضح کیا تھا کہ ترکی نے پناہ گزینوں کے معاملے کو انتظامی طور پر نہیں سنبھالا بلکہ انہیں ملک کے صوبوں میں بنا کسی ضابطے کے پھیلا دیا۔ اوغلو نے مزید کہا کہ "ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ استنبول میں مہاجرین کی حالت نہایت دشوار ہے۔ یہاں کم عمر لڑکیوں کی شادیاں ہو گئی ہیں اور سڑک پر گداگری میں بھی مصروف ہیں۔ ہم متعقلہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں گے تا کہ شامیوں کے لیے انسانی بنیادوں پر معاشی حالات کو یقینی بنایا جا سکے"۔

اوغلو کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شامی پناہ گزین غیر سرکاری طور پر کام کر رہے ہیں اور استنبول میں مقیم 6 لاکھ شامی سرکاری طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

استنبول کے بلدیاتی انتخابات کے دوران اولو نے کہا تھا کہ وہ شامیوں کے حوالے سے کوئی غیر انسانی اقدام نہیں کریں گے۔

استنبول میں سرکاری طور پر 5 لاکھ کے قریب شامی مقیم ہیں جب کہ بعض غیر سرکاری رپورٹوں کے مطابق شہر میں مزید 5 لاکھ غیر رجسٹرڈ شامی موجود ہیں۔