.

ایک دہائی تک کومے میں رہنے والے شخص کو عدالتی حکم پر موت کی نیند سلا دیا گیا

مریض کو 'مصنوعی تنفس' کے ذریعے زندہ رکھنے پر اہل خانہ میں 10 سال تک تنازع جاری رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں حادثے کے بعد مکمل طور پر مفلوج ہونے والے ایک مریض کو عدالت کے حکم پر موت کی نیند سلا دیا گیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق بیالیس سالہ وینسن لامبیر نامی شخص 10 سال پہلے موٹر سائیکل کے ایک حادثے کے باعث جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج ہو گیا تھا۔ اسے مسلسل کئی سال تک مصنوعی تنفس کے ذریعے زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ جمعرات کو اس کے ڈاکٹروں نے اس کا مزید علاج جاری رکھنے سے معذرت کر دی تھی۔

ایک مقامی عدالت میں مریض کی اہلیہ اور اس کے والدین کی طرف سے الگ الگ وکلاء پیش ہوئے۔ مریض کی اہلیہ اپنے شوہر کی عدالتی حکم پر موت کے حق میں تھی جب کہ اس کے والدین اس کے خلاف تھے اور اسے مذہبی تعلیمات کے منافی قرار دے رہے تھے۔

ڈاکٹروں نے 2 جولائی کو لامبیر کو مصنوعی طریقے سے خوراک دینے کا عمل بھی روک دیا تھا۔ وینسن لامبیر کئی سال تک کومے میں رہا۔ شمال مشرقی فرانس کی ایک عدالت نے لامبیر کو مصنوعی طریقے سے موت دینے کی اجازت دے دی۔

خیال رہے کہ فرانس میں کسی ایسے مریض جس کی زندگی بچانے کا کوئی امکان نہ رہے کو موت سے ہم کنار کرنے کی اجازت نہیں دیتا تاہم ڈاکٹروں کو یہ حق ہے کہ وہ کسی لاعلاج مریض کو موت کا انجکشن لگا سکتے ہیں۔