.

'مجاھدین خلق' کی سالانہ کانفرنس البانیا کی میزبانی میں‌ جاری

امریکی صدر کا خصوصی نمائندہ بھی کانفرنس میں‌ شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی اپوزیشن جماعت 'مجاہدین خلق' کی سالانہ کانفرنس جنوب مشرقی یورپی ملک البانیا میں منعقد کی جا رہی ہے۔ کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی نمائندہ بھی شریک ہے۔

البانیا کے دارالحکومت ٹیرانا میں منعقدہ کانفرنس کی میزبان اور مجاھدین خلق کی سربراہ مریم رجوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب اور نیویارک کے سابق میئر کا کانفرنس میں شرکت پر استقبال کیا۔ روڈی جولیانی آج جمعہ کے روز ہونے والے سیشن سے خطاب کریں گے۔

ایران کی قومی مزاحمتی کونسل کی طرف سے جاری ایک بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ روڈی جولیانی نے البانیا میں مجاھدین خلق کے مرکز 'اشرف سوم' میں مریم رجوی سے ملاقات کی۔ دونوں رہ نمائوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ایران اور خطے کی تازہ ترین صورت حال، ایران میں مذہبی رجیم کے خلاف جاری عوامی احتجاج، ملک میں ابتر معاشی صورت حال اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے تخریبی کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روڈی جولیانی نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے بارہا کہا ہے کہ ایرانی رجیم کرپٹ ہے۔ ایرانی عوام کی مشکلات کا اصل سب قوم کی گردوں پر مسلط استبدادی اور ظالمانہ نظام حکومت ہے۔ امریکا ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ایران کی مذہبی آمریت کے خلاف ایرانیوں کی مدد جاری رکھے گا۔

اس موقع پر مریم رجوی نے کہا کہ ایرانی عوام مذہبی رجیم کے مظالم سے تنگ ہیں اور ملک میں حکومت کے خلاف نفرت کا لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کو عوام کے سخت غم وغصے، ماضی کی نسبت ایک مختلف مزاحمتی تنظیم اور مختلف عالمی حالات کا سامنا ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ ایران میں حکومت کا کنٹرول کم اور قومی مزاحمتی قوتوں کا اثرو نفوذ بڑھ رہا ہے۔ ہم نے پورے ملک میں اپنا نیٹ ورک پھیلا کر سرگرمیاں شروع کردی ہیں‌۔

انہوں‌نے کہا کہ امریکا کی طرف سے ایرانی سپریم لیڈر ایت اللہ علی خامنہ پرپابندیاں کافی نہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف کو بھی بلیک لسٹ کرنا ہوگا۔