.

افغانستان: شادی کی تقریب میں خود کش حملہ، 6 افراد ہلاک،14 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک شادی کی تقریب میں ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں کم سے کم چھ افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے۔

افغان طالبان نے جنہوں‌ نے شہریوں کو حملوں کا نشانہ نہ بنانے کی یقین دہائی کرائی تھی، نے اس حملے سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔

ننگرہار کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں۔ دونوں ملکوں‌ کی سرحد پر 'داعش' بھی حملوں میں ملوث رہی ہے۔ ماضی میں یہ گروپ اس علاقے میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔

ننگر ہار کے گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ باشیرا گام کے مقام پر ایک شادی کی تقریب میں‌ خودکش حملہ آج مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے ہوا۔

حملے میں کم سے کم 6 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہو گئے۔ قبل ازیں زخمی ہونے والوں کی تعداد 40 بتائی گئی تھی۔ باشیرا گام کے گورنر حضرت خان خاکسار نے شادی کی تقریب میں ہونے والے جانی نقصان کے تازہ اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔

شادی کی تقریب میں‌یہ خود کش حملہ طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے چند روز بعد ہوا ہے۔ طالبان اور افغان حکومت پہلی بار ایک میز پر بیٹھے۔

طالبان افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء اور جنگ کے خاتمے کے لیے اب حکومت کے قریب آ رہے ہیں۔ دوحا میں ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں فریقین نے ایک نقشہ راہ سے اتفاق کیا ہے۔ طالبان نے حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہائی کرائی ہے۔