.

الجزائر میں احتجاج جاری، ایک شخص کی خود سوزی کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک الجزائر میں ہزاروں افراد نے حکومت میں شامل سابق صدر کے حامیوں کو نکالنے اور وسیع تر اصلاحات کے حق میں ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

جمعہ کے روز ہزاروں افراد نے سڑکوں‌ پر نکل کرحکومت میں شامل بعض عہدیداروں‌ کی برطرفی کے حق میں نعرے لگائے۔ اس موقع پر ایک شخص نے خود سوزی کی بھی کوشش کی، تاہم اسے بچا لیا گیا۔

الجزائر میں سابق صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی باقیات کے خلاف احتجاج 21 ہفتے میں داخل ہو گیا ہے۔ احتجاج کا سلسلہ رواں سال اپریل میں اس وقت شروع ہوا تھا کہ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے عوامی احتجاج کے بعد 20 سالہ طویل اقتدار چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کے فوٹو گرافر نے بتایا کہ الجزائر میں مظاہرے میں شریک ایک شخص نے خود کوآگ لگا لی، تاہم وہاں پر موجود دوسرے مظاہرین نے پانی پھینک کرآگ بجھا دی۔

الجزائر میں‌ اپوزیشن کے حامی ایک سیاست دان کو پارلیمنٹ کا اسپیکر منتخب کرنے کے باوجود جمعہ کے روز دارالحکومت سمیت کئی دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

خیال رہے کہ مظاہروں میں پیش پیش رہنے والے سلیمان چنین کو پارلیمنٹ کا اسپیکر مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں اسپیکر مقرر کرنے کا مقصد عوامی احتجاج کی لہر کو کم زور کرنا تھا مگر اس کے باوجود الجزائر میں احتجاج کی شدت میں کمی نہیں آئی۔