.

امریکی وزیر دفاع نے اپنے تُرک ہم منصب کے ساتھ گفتگو میں کیا کہا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع مارک ایسپر نے جمعے کے روز ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آکار کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ اس دوران روسی S-400 میزائل سسٹم کی ڈیل زیر بحث آئی۔

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے جمعے کے روز بتایا کہ روس کا جدید ترین میزائل دفاعی سسٹم ترکی کے حوالے کیے جانے کے آغاز کے حوالے سے پریس بریفنگ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

یہ پریس بریفنگ جمعے کے روز ہونا مقرر تھی۔ اس میں روسی S-400 سسٹم کے کچھ حصے ترکی کے حوالے کیے جانے پر پینٹاگان کا جواب سامنے آنا تھا۔

امریکی وزارت دفاع کے مطابق مارک ایسپر اور ان کے ترک ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو 30 منٹ تک جاری رہی۔ تاہم اس گفتگو کے بارے میں تفصیل پیش نہیں کی گئی۔

دوسری جانب انقرہ نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ وزیر دفاع حلوصی آکار اور ان کے امریکی ہم منصب کے درمیان آئندہ ہفتے امریکا کے ایک عسکری وفد کو انقرہ بھیجے جانے پر اتفاق ہو گیا۔ یہ وفد شام میں سیف زون کے حوالے سے بات چیت کرے گا۔

ترکی کے وزیر دفاع نے باور کرایا کہ روس کے ساتھ S-400 میزائل سسٹم کی ڈیل کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ انقرہ نے تزویراتی سمت کو تبدیل کر لیا ہے۔

حلوصی نے ایسپر کو آگاہ کیا کہ انقرہ امریکا کے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کو پر توجہ دے رہا ہے۔

اس سے قبل جمعے کو قائم مقام امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا تھا کہ اگر ترکی نے روس سے دفاعی میزائل سسٹم خریدا تو امریکا F-35 لڑاکا طیارے کے پروگرام میں ترکی کی شرکت کے حوالے سے اپنا موقف تبدیل نہیں کرے گا۔

مارک ایسپر نے 26 جون کو برسلز میں ذاتی طور پر ترک وزیر دفاع حلوصی آکار کو آگاہ کر دیا تھا کہ ترکی کے لیے ممکن نہیں ہو گا کہ وہ روسی S-400 میزائل سسٹم اور امریکی F-35 طیارے ساتھ حاصل کر لے۔