.

برطانیہ ، جرمنی اور فرانس کو خلیج میں بحری جہازوں پر حملوں پر گہری تشویش لاحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے خلیج عُمان اور اس سے ماورا بحری جہازوں پر حالیہ حملوں اور خطے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان تینوں یورپی ممالک نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران سے جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں لیکن انھوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ یہ سمجھوتا تار تار ہوسکتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے:’’اب وقت آگیا ہے کہ ذمے دارانہ اقدام کیا جائے،کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے طریقوں پر غور کیا جائے اور مکالمے کو بحال کیا جائے‘‘۔

واضح رہے کہ تیرہ جون کو دو آئیل ٹینکروں، ناروے کے ملکیتی فرنٹ آلٹیر اورجاپان کے ملکیتی کوکوکا کورجیئس کو خلیج عُمان میں آبنائے ہُرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں تخریبی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔موخرالذکر بحری جہاز پر آتش گیر مواد میتھانول لدا ہوا تھا اور اس کے پچھلے حصے میں بارودی سرنگ کا دھماکا ہوا تھا ۔تاہم اس میں لدا آتش گیر مواد محفوظ رہا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے عہدے داروں نے ایران کو اس حملے کا مورد الزام ٹھہرایا تھا اور کہا تھا کہ اس کارروائی میں ہر طرح سے ایران کا ہاتھ کارفرما ہے لیکن ایران نے اس الزام کی تردید کی تھی ۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے اس حملے سے متعلق بعض تصاویر جاری کی تھیں ۔ان سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ایران دو میں سے ایک بحری جہاز پر آبی بم حملے میں ملوّث تھا۔

اس سے قبل مئی میں تین آئیل ٹینکروں سمیت چار بحری جہازوں پر متحدہ عرب امارات کی ساحلی حدود میں، فجیرہ کی بندرگاہ کے نزدیک خلیج عُمان ہی میں بارودی سرنگوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ان میں دو تیل بردار جہاز سعودی عرب کے ملکیتی تھے۔امریکا نے اس تخریبی حملے کا الزام بھی ایران پر عاید کیا تھا لیکن اس نے اس کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔