.

برطانیہ نے تحویل میں لئے گئے ایرانی سپر ٹینکر واپسی کی شرائط بتا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ تہران "گریس 1" تیل بردار جہاز کا مسئلہ حل کرنے کا خواہاں ہے اور وہ معاملے کو بڑھانا نہیں چاہتا ہے۔

ہنٹ نے ہفتے کے روز واضح کیا کہ اگر انہیں یہ ضمانت مل جائے کہ جبرالٹر کی عدالت میں قانونی اقدامات کے بعد مذکورہ تیل بردار جہاز شام کا رخ نہیں کرے گا تو جہاز کی واپسی آسان ہو جائے گی۔ ہنٹ کے مطابق انہوں نے ظریف کے ساتھ بات چیت میں ایرانی وزیر خارجہ کو اس بات کا اطمینان دلایا کہ لندن کے لیے اہم امر گریس 1 تیل بردار جہاز کے تیل کا ذریعہ نہیں بلکہ جہاز کی منزل ہے۔

ادھر جبرالٹر کی پولیس نے جمعے کے روز بتایا کہ گذشتہ ہفتے تحویل میں لیے جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز کے کپتان اور عملے کے تین افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ جہاز پر شبہ ہے کہ اس نے شام پر یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

جبرالٹر حکام نے 330 میٹر طویل ایرانی تیل بردار جہاز کو چار جولائی کو ضبط کیا تھا۔

اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب خبردار کر چکی ہے کہ جبرالٹر کے نزدیک تیل بردار جہاز ضبط کرنے پر امریکا اور برطانیہ "سخت نادم" ہوں گے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ ریئر ایڈمرل علی فدوی کے مطابق اگر دشمن ادنی سا بھی جائزہ بھی لے لیتا تو کبھی اس نوعیت کا تصرف نہ کرتا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بھی جمعرات کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ "ہم جبرالٹر میں تیل بردار جہاز ضبطی پر اپنے جواب کا اعلان بعد میں کریں گے"۔