.

لیبیا میں قومی وفاق حکومت کا اسلحہ ڈپو جنرل حفتر کے فضائی حملے میں تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی زیر کمان فضائیہ نے ہفتے کی شب غریان شہر میں قومی وفاق کی فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس میں بڑے پیمانے پر اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

’’الکرامہ‘‘ آپریشن کے کمان سینٹر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ حفتر کی فضائیہ نے اہدافی حملے کئے۔ کارروائی میں ابو عبیدہ نامی ملیشیا کے غریان شہر میں ایک کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اسلحہ گودام میں آگ بھڑک اٹھی۔ بمباری کے مقام کی جانب جاتی ہوئی ایمبولینس گاڑیوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حملے میں جانی نقصان ہوا ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز سے جنرل حفتر کی فضائیہ غریان کے مضافات میں مسلح ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس میں اسلحہ اور تیل کے ڈپو خاص طور پر ہدف بنائے جا رہے ہیں۔ ان حملوں میں مارے جانے والوں میں قومی وفاق کی حکومت کی صفوں میں شامل دہشت گرد اور کرائے کے قاتل شامل ہیں۔ اس نئی فوجی کارروائی کا مقصد دارلحکومت طرابلس کے جنوب میں واقع غریان شہر کا کنڑول قومی وفاق کی فوج سے واپس لینا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ لیبی فوج طرابلس کو قومی وفاق حکومت کے تسلط سے آزاد کرانے کے لئے ایک نئی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ دارلحکومت کو دہشت گرد تنظیموں اور مسلح ملیشیاؤں کے چنگل سے آزاد کرایا جا سکے۔ اس سے قبل جنرل حفتر کی فوج لڑائی کے متعدد محاذوں پر پیش قدمی کر چکے ہیں۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ لیبی فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر اگلے چند گھنٹوں میں خطاب کرنے والے ہیں جس میں وہ طرابلس کی آزادی کے لئے نیا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔