.

ٹرمپ انتظامیہ ترکی کے خلاف پابندیوں کے پیکج پر متفق: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بلومبرگ نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ترکی کی سرزنش کے لیے پابندیوں کے پیکج پر متفق ہو گئی ہے۔ یہ اقدام روس سے S-400 دفاعی میزائل سسٹم کے حصے وصول کرنے کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔ پابندیوں کے منصوبے کا اعلان آئندہ دنوں میں کر دیا جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے دشمنوں کے انسداد سے متعلق ایکٹ کے تحت اقدامات کے تین مجموعوں میں سے ایک مجموعے کا انتخاب کر لیا ہے۔ تاہم اختیار کیے گئے مجموعے کی نشان دہی نہیں کی گئی ہے۔

ایک ذریعے نے بلومبرگ کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ ہفتے کے اواخر میں پابندیوں کے اعلان پر متفق ہو گئی ہے۔ انتظامیہ چاہتی ہے کہ یہ اعلان پیر 15 جولائی کے بعد کیا جائے کیوں کہ اس روز ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف 2016 میں انقلاب کی ناکام کوشش کے تین سال پورے ہو رہے ہیں۔ امریکا ایسی مزید قیاس آرائیوں سے گریز چاہتا ہے کہ انقلاب کی کوشش کا ذمے دار واشنگٹن ہے۔ ایردوآن کے حامی یہ ہی دعوی کرتے ہیں۔

پابندیوں کا منصوبہ امریکی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور قومی سلامتی کونسل کے ذمے داران کے درمیان کئی روز تک زیر بحث آنے کے بعد وضع کیا گیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اُن پابندیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جو صدر ٹرمپ اور ان کے بڑے مشیروں کے دستخط کے منتظر ہیں۔

ترکی نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ روسی S-400 میزائل سسٹم کی پہلی کھیپ اس کی اراضی پر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح روس نے بھی میزائل سسٹم کو انقرہ کے حوالے کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

نیٹو اتحاد نے ترکی کی جانب سے روسی میزائل وصول کرنے کے اعلان پر "تشویش" کا اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے متعدد بار خبردار کیا جا چکا ہے کہ روسی میزائل سسٹم نیٹو اتحاد جس میں ترکی بھی شامل ہے ،،، اس کے سسٹم سے متصادم ہے۔

واشنگٹن کی جانب سے کئی ماہ سے اس ڈیل کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ امریکا پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ اگر ترکی نے روسی ساختہ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری کے سمجھوتے پر عمل درامد جاری رکھا تو انقرہ پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ ان پابندیوں میں امریکی ساختہ F-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق خصوصی پروگرام میں ترکی کی شراکت کا خاتمہ اور جدید ترین F-35 لڑاکا طیاروں پر ترکی کے ہوا بازوں کی تربیت کا عمل معطل کر دینا شامل ہے۔

امریکا کا خیال ہے کہ ترکی کی جانب سے S-400 دفاعی نظام خریدے جانے کی صورت میں امریکی F-35 طیاروں کے عسکری راز کا انکشاف ہو سکتا ہے۔ مذکورہ طیارے کے متعلق خیال ہے کہ وہ روس کے اس دفاعی میزائل نظام سے بچ نکلنے پر قادر ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان میں (جی – 20) سربراہ اجلاس کے ضمن میں ہونے والی ملاقات میں اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کو باور کرایا تھا کہ انقرہ کی جانب سے روسی "S-400" دفاعی سسٹم کی خریداری ایک "مسئلہ" ہے۔ سربراہ اجلاس کے اختتام کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر ترکی S-400 سسٹم کی خریداری پر ڈٹا رہا تو اس پر امریکی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔