.

اٹلی میں دہشت گردی کی سزا پانے والا شدت پسند مبلغ ناروے سے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ناروے میں سیکورٹی ادارے نے بتایا ہے کہ اٹلی میں دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کے حوالے سے قصور وار ٹھہرائے جانے والے انتہا پسند مبلغ مُلّا کریکر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اٹلی کی جانب سے جاری وارنٹ کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے۔

عراق میں پیدا ہونے والے ملا کریکر کو پیر کی شام گرفتار کیا گیا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا اسے روم کے حوالے کیا جائے گا یا نہیں؟

ناروے کے سیکورٹی ادارے نے ٹویٹر پر ملا کریکر کی گرفتاری کے بارے میں خبر ... اطالوی عدالت کے فیصلے کے چند گھنٹے بعد دی۔ فیصلے میں ملا کریکر کو شمالی عراق میں کرد حکومت گرانے اور اس کی جگہ "اسلامی خلافت" قائم کرنے کے الزام میں 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اطالوی پراسیکیوٹر کے مطابق ناروے میں مقیم ملا کریکر Rawti Shax کا بانی ہے۔ یہ ایک یورپی نیٹ ورک ہے جس کا مقصد تشدد کے راستے سے کردستان کی حکومت کا سقوط ہے۔ کریکر کے اطالوی وکیل مارکو فیرنیلو کا کہنا ہے کہ اس کا مؤکل جو ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے، اس فیصلے کے خلاف اپیل کا ارادہ رکھتا ہے۔

سال 2015 میں یورپی حکام نے دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت 15 کرد عراقی شہریوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ اطالوی استغاثہ کے مطابق راوتی شاکس نیٹ ورک نے عراق اور شام بھیجنے کے لیے غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کو بھرتی کیا اور لوجسٹک اور مالی سپورٹ فراہم کی۔ استغاثہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس نیٹ ورک کا سرغنہ ملا کریکر تھا۔

مارکو فیرنیلو کے مطابق کریکر اور پانچ دیگر افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ملا کریکر کا اصلی نام نجم الدین فرج احمد ہے ... 63 سالہ مبلغ نے اطالیہ کا سفر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کریکر کو اندیشہ ہے کہ اطالوی حکام اسے بے دخل کر کے عدالتی کارروائی کے واسطے عراق بھیج دیں گے۔

ملا کریکر عراقی کردستان کے ایک پناہ گزین کی حیثیت سے 1991 میں ناروے آیا تھا۔ اسے ناروے میں کئی مقدمات میں قصور وار ٹھہرایا جا چکا ہے ، ان میں خاتون وزیراعظم اِرنا سولبرگ کو دی گئی دھمکی شامل ہے۔ اسی طرح کریکر نے 2015 میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی جریدے "چارلی ایبڈو" پر حملے کو سراہا تھا۔

کریکر نے "انصار الاسلام" نامی تنظیم بنائی تھی جو اب تحلیل ہو چکی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد عراقی کردستان میں "خلافتِ اسلامیہ" کا قیام تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انصار الاسلام 2014 میں داعش تنظیم میں ضم ہو گئی تھی۔

ناروے کی عدالت ملا کریکر کی بے دخلی کا فیصلہ جاری کر چکی ہے۔ حکومت نے کریکر کو سفری دتاویزات دے دی ہیں تا کہ وہ ناروے کی پولیس کے ہمراہ ترکی بھیجا جا سکے۔

کریکر کے وکیل کے مطابق کریکر ناروے میں قانونی طور پر رہ رہا ہے اور اس کی زندگی کو خطرہ ہونے کے پیش نظر کریکر کو بے دخل نہیں کیا جانا چاہیے۔