.

بیلجیم میں امریکی جوہری ہتھیاروں کی موجودگی سے متعلق رپورٹ پر تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیم میں امریکی جوہری ہتھیاروں کی موجودگی سے متعلق انکشاف کے بعد حزب اختلاف کی سیاسی شخصیات نے حکومت سے جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ انکشاف انٹرنیٹ پر جاری ہونے والی ایک دستاویز کے ذریعے سامنے آیا ہے۔

نیٹو اتحاد کی پارلیمانی اسمبلی میں سیکورٹی اینڈ ڈیفنس کمیٹی کی ایک رپورٹ کے مسودے میں یورپ اور ترکی میں 6 فضائی اڈوں کے حوالے سے تفصیلات شامل ہیں۔ ان اڈوں پر امریکا نے اپنے 150 جوہری ہتھیار بالخصوص B-61 گریویٹی بم محفوظ کر رکھے ہیں۔

یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ میں جوہری ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ کے حوالے سے اندیشے پھیلے ہوئے ہیں .. اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر روک لگانے سے متعلق ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان سرد جنگ کے زمانے کا تاریخی معاہدہ اب اختتام کے کنارے کھڑا نظر آ رہا ہے۔

گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ صیموئیل کوگولاتی کے مطابق مذکورہ رپورٹ سے شمالی بیلجیم میں کلائن بروگل کے فضائی اڈے میں امریکی جوہری ہتھیاروں کے وجود سے متعلق "پھیلے ہوئے راز" کی تصدیق ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اس سلسلے میں مکمل طور پر شفاف بحث کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمیں اس جھوٹ کو روکنا ہو گا اور اس منافقت پر روک لگانا ہو گی"۔

رواں سال اپریل میں تحریر کی جانے والی رپورٹ کے مسودے کے ایک حصے میں چھ فوجی مقامات پر تقریبا 150 جوہری ہتھیاروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اڈے بیلجیم میں کلائن بروگل، جرمنی میں بوشیل، اطالیہ میں وافیانو اور گیڈی ٹوری، ہالینڈ میں وولکل اور ترکی میں انجرلیک ہیں۔

برطانیہ اور فرانس کے علاوہ امریکا نیٹو اتحاد میں شامل تین ایٹمی طاقتوں میں برطانیہ اور فرانس کے علاوہ امریکا شامل ہے۔ اگرچہ جوہری خطرہ جوابی حکمت عملی کی پالیسی کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے تاہم نیٹو اتحاد اسے تفصیل سے زیر بحث لانے کو مسترد کرتا ہے۔

نیٹو اتحاد کے ایک ذمے دار نے زور دیا ہے کہ "یہ اتحاد کی کوئی سرکاری دستاویز نہیں ہے"۔ ذمے دار کا کہنا ہے کہ نیتو اتحاد جوہری مسائل پر ہر گز تبصرہ نہیں کرے گا۔

اسی طرح بیلجیم کے وزیر دفاع کے ترجمان نے بھی اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

گذشتہ صدی میں 1980ء کی دہائی میں بیلجیم کے ایک وزیر نے کلائن بروگل کے فوجی اڈے میں امریکی جوہری ہتھیاروں کے وجود کا اقرار کیا تھا۔ یہ مقام برسلز سے 90 کلو میٹر شمال مغرب میں ہالینڈ کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اس کے حلیف ملکوں کے دُہری صلاحیت کے حامل طیارے B-61 بموں کو لے کر جا سکتے ہیں۔ تاہم ان کو امریکی صدر کے احکامات کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔