.

روسی میزائل سسٹم کی خریداری ، امریکا کا ترکی کو جواب دینے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر دونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو ترکی کی جانب سے روسی میزائل سسٹم کی خریداری پر ،،، ممکنہ جواب کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔

اس سے قبل ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کو ملامت کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ترکی کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ہمارے اچھے تعلقات ہیں مگر صاف بات یہ ہے کہ صورت حال پیچیدہ ہے۔ اوباما انتظامیہ نے ترکی کو میزائل فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی۔ انہیں (ترکی) کو اپنے وطن کے دفاع کے واسطے میزائلوں کی ضرورت تھی۔ بعد ازاں جب یہ معلوم ہوا کہ ترکی ،،، روس سے میزائلوں کی خریداری چاہتا ہے تو پھر سب نے ترکی کی جناب دوڑ لگا کر اس سے کہا کہ ٹھیک ہے ہم آپ لوگوں کو میزائل فروخت کریں گے"۔

امریکی وزیر دفاع کے منصب کے لیے ٹرمپ کے امیدوار مارک ایسپر نے روسی S-400 فضائی دفاعی سسٹم کی خریداری سے متعلق ترکی کے فیصلے کو "مایوس کن" قرار دیا۔

وہ منگل کے روز سینیٹ میں امریکی مسلح افواج سے متعلق کمیٹی کے سامنے گفتگو کر رہے تھے۔ ایسپر کے مطابق ترکی کے لیے ممکن نہیں ہو گا کہ وہ روسی S-400 میزائل سسٹم اور (ریڈار کی آنکھ سے روپوش رہنے والے) امریکی F-35 طیارے ساتھ حاصل کر لے۔

امریکا کا خیال ہے کہ ترکی کی جانب سے S-400 دفاعی نظام خریدے جانے کی صورت میں امریکی F-35 طیاروں کے عسکری راز کا انکشاف ہو سکتا ہے۔ مذکورہ طیارے کے متعلق خیال ہے کہ وہ روس کے اس دفاعی میزائل نظام سے بچ نکلنے پر قادر ہے۔

گذشتہ ماہ جون کے اوائل میں پینٹاگون نے اعلان کیا کہ روس کے ساتھ میزائل سسٹم کی خریداری کے سمجھوتے سے دست برداری کے لیے ترکی کو 31 جولائی تک کی مہلت دی جا رہی ہے۔