.

پرتگال: سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ایرانیوں کو ویزے کا اجرا موقوف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پرتگال کے وزیر خارجہ اوگسٹو سانتوز سیلوا نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ایرانی شہریوں کے لیے پرتگال کے ویزے کا اجراء معلق کر دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے وجوہات کا تعین نہیں کیا۔

وزارت خارجہ کے ذمے داران کے پاس اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں تھا۔ اسی طرح لشبونہ میں ایرانی سفارت خانے کے ذمے داران کی جانب سے بھی کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل درجنوں ایرانی کارکنان نے ایک کھلے خط کے ذریعے یورپی یونین سے مطالبہ کیا تھا کہ ایرانی سفارت خانوں کو بند کر دیا جائے۔ خط کے مطابق یہ دہشت گرد (ایرانی) نظام کے مراکز ہیں۔ اس لیے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ان سفارت خانوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان میں اپوزیشن کی شخصیات اور گروپوں کے خلاف جاسوسی ، قتل اور دھماکوں کی کارروائیاں شامل ہیں۔

یورپی ممالک کے نام کھلے خط پر سیاست دانوں، معیشت دانوں، ماہرین، صحافیوں اور اپوزیشن کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں باور کرایا گیا ہے کہ ایرانی نظام یورپ کے مختلف حصوں میں اپنے مخالفین کو موت کی نیند سلانے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ اس واسطے وہ اپنے ایجنٹوں اور انٹیلی جنس افسران پر انحصار کرتا ہے جو سفارتی مشن کے ارکان کے روپ میں چھپے ہوتے ہیں۔

علاوہ ازیں خط میں ایرانی نظام کے زیر انتظام سفارت خانوں، قونصل خانوں اور اس کے سفارتی دفاتر کے علاوہ مذہبی اور علمی مراکز بھی بند کر دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یورپی سفارت کاروں کی جانب سے زور دیا گیا تھا کہ یورپ کسی طور بھی ایران کے معاندانہ رویے اور اس کی خلاف ورزیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سفارت کاروں کے مطابق واشنگٹن کی معتمد پالیسی سے ملتی جلتی پالیسی اختیار کی جائے اور ایران پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں۔ ان میں ایرانی پاسداران انقلاب کے افراد کے اثاثے منجمد کرنا اور ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کرنا شامل ہے۔