.

اولین کیتھولک پوپ کی جائے پیدائش پر کلیسا دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آثار قدیمہ کے اسرائیلی ماہرین نے جمعے کے روز الجلیل کے علاقے میں ایک کلیسا دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین نے باور کرایا ہے کہ یہ کلیسا اُس مقام پر تعمیر کیا گیا جہاں دو پادریوں پیٹر (روم کے پہلے پوپ) اور اس کے بھائی اینڈریو نے اپنی زندگی گزاری تھی۔

مذکورہ چرچ دو تاریخی دیہات کفرناحوم اور الکرسی کے درمیان واقع العرج کے علاقے میں ملا ہے۔ اس بات کا اعلان آثار قدیمہ کے حوالے سے متعلقہ کھدائی کے کام کی قیادت کرنے والے ماہر مردخائی افیعام نے کیا۔

افیعام نے بتایا کہ یہ مقام بیت صیدا گاؤں کی باقیات پر واقع ہے۔ بشپ یوحنا کی انجیل کے مطابق پیٹر اور اس کا بھائی اینڈریو اسی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔

کیتھولک روایت کے مطابق پیٹر کو بطریق اعظم روم شمار کیا جاتا ہے۔ مشرقی مسیحی روایت میں اسے انطاکیہ کا پہلا اسقف (پیٹری آرک) گردانا جاتا ہے۔

افیعام نے بتایا کہ بشپ ویلابیلڈ نے 725ء میں بیت صیدا کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر اس نے بتایا کہ یہ مقام اُس کلیسا سے متعلق ہے جو پیٹر اور اینڈریو کے مقام سکونت پر تعمیر کیا گیا تھا۔

آثار قدیمہ کے اسرائیلی ماہر کے مطابق انہوں نے کلیسا کا ایک تہائی یا اس سے بھی کم حصّہ دریافت کیا ہے مگر یہ واقعتا کلیسا ہی ہے۔

اس مقام پر کھدائی کا کام دو سال پہلے شروع ہوا تھا۔ اس دوران تاریخی اہمیت کی حامل متعدد اشیاء اور آثار کا پتہ چلا۔

العرج میں کھدائی کے کام میں شریک امریکی پروفیسر آر اسٹیون نوٹلے کا کہنا ہے کہ تلاش کا کام جاری رکھنا نا گزیر ہے تا کہ اس بات کی قطعی طور پر تصدیق کی جا سکے کہ العرج گاؤں ہی درحقیقت بیت صیدا ہے۔

انہوں نے اسرائیلی اخبار ہآریٹز کو دیے گئے بیان میں کہا کہ کاش کہ ایسے نقوش ہمیں مل سکیں جن سے اس کلیسا کو تعمیر کرنے والوں کے بارے میں معلومات حاصل ہو جائیں۔