.

ایران اور حزب اللہ ہماری سیکورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں : بولٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ایران اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو کو سپورٹ کر رہے ہیں ... اور مغربی کرہ ارض کے ممالک کے لیے براہ راست خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

بولٹن نے اتوار کی شب اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ "ایران اور حزب اللہ میڈورو کے غیر قانونی آمرانہ حربوں کی حمایت کرتے ہیں جو وینزویلا کے بے قصور افراد کے خلاف کریک ڈاؤن، عقوبت اور قتل کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ علاوہ ازیں یہ دونوں علاقائی سیکورٹی کے لیے بھی براہ راست خطرے کی حیثیت رکھتے ہیں"۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر کے مطابق میڈورو کے شراکت داروں اور مغربی کرہ ارض میں پھیلاؤ کے لیے ایرانی کوششوں کو رسوا کن انداز سے سامنے لانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس سے قبل اتوار کے روز بولٹن نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے کراکس کے دورے پر تبصرہ کیا۔ ظریف غیر جانب دار تحریک کے رکن ممالک کے وزراء کے اجلاس میں شرکت کے لیے وینزویلا کے درالحکومت پہنچے ہیں۔ بولٹن نے ظریف اور میڈورو کی مسکراتی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میں سمجھتا ہوں کہ میڈورو کی غیر قانونی حکومت کی میزبانی میں ظریف ایسا اطمینان محسوس کر رہے ہیں گویا کہ وہ اپنے گھر میں موجود ہوں"۔

ایرانی وزیر خارجہ جمعے کی شام وینزویلا پہنچے تھے۔ اس موقع پر میڈورو نے اپنے محل میں ان کا استقبال کیا اور دو طرفہ تعلقات اور باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن برطانیہ کے کانوں میں اپنا زہر گھول رہے ہیں تا کہ اسے گھسیٹ کر دلدل میں لا سکیں۔ ظریف کے مطابق ان چال بازیوں کو ناکام بنانے کا واحد راستہ حکمت و دانش مندی اور چوکنا رہنا ہے۔

اس سے قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس نے جمعرات کے روز اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا تھا کہ "جواد ظریف کا وینزویلا کا دورہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایران کی جانب سے عدم استحکام کی سرگرمیوں کا دائرہ مشرق وسطی سے باہر تک پھیلا ہوا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے وینزویلا کے آمر میڈورو کی سپورٹ کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی ... اور امریکا ایک آزاد وینزویلا کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ ہم جمہوریت کے دشمنوں کے خلاف ہیں۔ میڈورو کو رخصت ہو جانا چاہیے"۔