.

میڈورو سے مصافحے کے دوران جواد ظریف کا ہاتھ ٹوٹنے سے بچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو نے ہفتے کے روز دارالحکومت کراکس کے Miraflores صدارتی محل میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا استقبال کیا تو قریب تھا کہ وہ اپنے مہمان کے داہنے ہاتھ کی ہڈی توڑ ڈالتے۔

ظریف نے میڈورو سے مصافحہ کیا تو میڈورو نے انہیں "ڈرون" طیارہ قرار دیا۔ اس کے بعد وینزویلا کے صدر نے ایرانی وزیر خارجہ کے ہاتھ کو اس حد تک زور سے دبایا کہ مہمان شخصیت کو شدید تکلیف محسوس ہوئی اور ظریف اپنی تکلیف کو ہنس کر چھپانے پر مجبور ہو گئے۔ یہ بات مشہور ہے کہ 57 سالہ نکولس میڈورو اپنی جوانی میں باکسنگ کے بے حد شوقین تھے۔ انہیں کئی بار مخالف حریف کے ساتھ باکسنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ البتہ یہاں جو بات مختلف رہی وہ یہ کہ ظریف اپنے میزبان میڈورو سے عمر میں دو سال بڑے ہیں اور ماضی میں باکسر بھی نہیں رہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف جمعے کی شام وینزویلا پہنچے تھے۔ انہوں نے ہفتے اور اتوار کے روز "غیر جانب دار تحریک" کے رکن ممالک کے وزراء کے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت وینزویلا کے صدر نے کی۔ اجلاس کا سابقہ سربراہ ایران تھا جب کہ آئندہ صدارت آذربائیجان کے پاس ہو گی۔ وینزویلا کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نیکارگوا اور بولیویا بھی جائیں گے۔

اس سے قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس نے جمعرات کے روز اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا تھا کہ "میڈورو پہلی مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وینزویلا کے عوام کے لیے صرف بد بختی کا سامان لانے کا ذریعہ بنے ہیں۔ وہ ایک آمر ہیں، انہیں قانونی طور پر اقتدار کے مطالبے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہم ایک آزاد اور جمہوری وینزویلا کے لیے پوری طاقت کے ساتھ کھڑے ہیں"۔

ایرانی وزیر خارجہ کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "جواد ظریف کا وینزویلا کا دورہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایران کی جانب سے عدم استحکام کی سرگرمیوں کا دائرہ مشرق وسطی سے باہر تک پھیلا ہوا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے وینزویلا کے آمر میڈورو کی سپورٹ کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی ... اور امریکا ایک آزاد وینزویلا کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ ہم جمہوریت کے دشمنوں کے خلاف ہیں۔ میڈورو کو رخصت ہو جانا چاہیے"۔