.

بحری جہازوں کو تیل کی عدم فراہمی پر ایران برازیل کے ساتھ برہم

ایرانی سفیر کی برازیل سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق ایران کے برازیل میں سفیر سید علی ساغین نے برازیلی حکام پر تنقید کر تے ہوئے کہا ہے کہ تہران برازیل سے اپنی دو ارب ڈالر کی تجارت کو کسی دوسرے ملک کے پاس لے جائے گا۔

جنوبی امریکا کا ملک برازیل ایران کے زبانی غیض و غضب کا شکار بننے والا سب سے حالیہ ملک ہے۔ ایران کی جانب سے اس ابھرتی ہوئی معیشت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اس کے اوپر امریکی پابندیوں سے بڑھتے ہوئے دبائو کا مظہر ہے۔

ایران کے دو بحری جہاز گزشتہ ایک ماہ سے برازیل کے ساحل پر پیراناگوا بندرگاہ کے قریب تیل کی فراہمی کے منتظر ہیں۔ برازیل کی نیم سرکاری آئل کمپنی پیٹروباس نے امریکی پابندیوں کے خوف سے ایرانی جہاز کو تیل پہنچانے سے انکار کر دیا ہے۔ برازیلین کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے ایسا فیصلہ کیا ہے اور ان جہازوں کو دیگر کمپنیاں تیل پہنچا سکتی ہیں۔

تہران اور برازیل کے ہمیشہ سے دوستانہ روابط رہے ہیں مگر اب حالیہ انتخابات میں امریکی صدر ٹرمپ کے ہم خیال جئیر بولسونارو کی فتح کے بعد ملک کی خارجہ پالیسی کی روش بدل رہی ہے۔

بولسونارو نے امریکا کے ساتھ اپنی وفاداری کا بڑھ چڑھ کر اظہار کیا ہے اور اپنے ملک کے تاجروں کو تہران کے ساتھ معاملات کے منفی نتائج سے خبردار کیا۔

امسال برازیل کی مکئی کی کاشت کا ایک تہائی حصہ ایران کو برآمد کر دیا جاتا ہے۔

ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام کو کہا ہے کہ انہیں اس مسئلے کے حل کے لئے کوشش کرنی چاہئیے ہے۔ یہ صرف ایران کا مسئلہ نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "تہران کے حکام ان نامساعد حالات سے تنگ آ کر اپنی تجارت کسی اور ملک کے پاس لے جائیں گے جو کہ اس کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں۔"

ایرانی سفیر کو اب تک برازیل کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی ہے۔ ایران کو اپنے بحری جہازوں کے سفر کو یقینی بنانے کے لئے بہت مہنگے اقدام اٹھانا پڑ سکتے ہیں۔