.

ترکی : شامی پناہ گزینوں سمیت سمیت 6000 مہاجرین حراست میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سویلو کا کہنا ہے کہ استنبول میں غیر رجسٹرڈ پناہ گزینوں اور مہاجرین کے خلاف مہم کے سلسلے میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران 6000 افراد کو پکڑا گیا جن میں شامی باشندے بھی شامل ہیں۔ مقمامی ویب سائٹ Turkish Minute کے مطابق سویلو نے بتایا کہ ان افراد کو حراست میں رکھنے کے لیے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا۔

حالیہ چند دنوں میں بعض رپورٹوں کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان رپورٹوں میں بتایا گیا کہ سیکڑوں شامی پناہ گزینوں کو بے دخل کر کے شام بھیج دیا گیا ہے۔ اس سے قبل مذکورہ شامیوں سے ترک زبان میں تحریر اعترافات پر دستخط لیے گئے تھے جب کہ انہیں اس کا متن سمجھ نہیں آیا۔ ترک وزیر داخلہ نے بدھ کے روز"NTV" چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ہم 12 جولائی سے یہ آپریشن کر رہے ہیں ... اس دوران استنبول میں 6122 افراد کو پکڑا گیا۔ ان میں 2600 افغانی اور 1000 کے قریب شامی ہیں"۔

ترک وزیر نے غیر رجسٹرڈ شامیوں کو بے دخل کیے جانے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ شامیوں کو پکڑنے کی صورت میں انہیں پناہ گزین کیمپوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ تاہم ترک عہدے دار نے بتایا کہ بعض شامیوں نے خود سے "رضاکارانہ" طور پر شام کے اُن علاقوں میں واپسی اختیار کی جہاں لڑائی کی شدت میں کمی آ چکی ہے۔

ترکی نے اس وقت 35 لاکھ سے زیادہ شامیوں کو پناہ دے رکھی ہے جو دنیا بھر میں شامیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

رواں ماہ 18 جولائی کو ترکی کی وزارت داخلہ کے مائیگریشن ڈائرکٹریٹ نے اعلان کیا کہ تھا کہ پناہ گزینوں کا اپنے اندراج کے صوبوں کے علاوہ دیگر کسی صوبے میں رہنے کا اجازت نامہ رکھنا ،،، غیر قانونی فعل ہے۔ لہذا اس ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کڑی سزا دی جائے گی جو اجازت نامے کی منسوخی بھی ہو سکتی ہے۔ حالیہ مہم کا مقصد اُن شامی پناہ گزینوں کا پتہ چلانا ہے جو استنبول میں سکونت کے اجازت نامے کے بغیر وہاں مقیم ہیں۔