.

تنہائی کا شکار ترکی یورپ کے لیے قابل اعتماد شریک نہیں ہو گا : دی اکنامسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلطنت عثمانیہ کے سقوط کے بعد مصطفی کمال اتاترک نے ترکی کے یورپ اور مغرب کے ساتھ مضبوط تعلقات کے لیے بھرپور کام کیا۔ تاہم تقریبا ایک صدی بعد رجب طیب ایردوآن ترکی کو مخالف سمت لے کر چل رہے ہیں۔ یہ بات معروف امریکی جریدے "دی اکنامسٹ" نے اپنے ایک تازہ مضمون میں کہی ہے۔

جریدے کے مطابق ایردوآن کی جانب سے اقتدار اور اختیارات پر قبضے کی کارروائیوں کے نتیجے میں ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست ایک مذاق کے مترادف بن چکی ہے۔ اس حوالے سے آخری دو واقعات نے معاملات کو بدترین بنا دیا ہے۔ پہلے 12 جولائی کو ترکی کی فضائیہ نے روس سے S-400 دفاعی میزائل سسٹم حاصل کیا اور پھر 15 جولائی کو یورپی یونین نے اپنے رکن ملک قبرص کے اطراف پانی میں گیس کی تلاش میں ڈرلنگ کرنے پر ترکی پر پابندیاں عائد کر دیں۔

مذکورہ پابندیوں میں مالی امداد کی کمی، ایوی ایشن سمجھوتے کو معلق کرنا اور اعلی سطح کی بات چیت کو روک دینا شامل ہے۔ دوسری جانب ترکی نے ان پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں "غیر اہم" قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی ترکی نے ڈرلنگ والے علاقے میں اپنا چوتھا بحری جہاز بھیجنے کا عزم کیا ہے۔ ایک بار پھر لگتا ہے کہ یورپی یونین غیر فعّال ثابت ہوئی ہے۔

جریدے کے مطابق یورپی ذمے داران نے دو مرکزی عذر پیش کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ یورپ کو ہجرت اور دہشت گردی کے میدانوں میں ترکی کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اس واسطے یورپی پونین کو انقرہ کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے۔ ترکی کے ڈھیر ہونے کا مطلب یہ ہو گا کہ یورپ کو اقتصادی دھچکوں یا مہاجرین کی نئی لہر کا سامنا ہو گا۔ دوسرا عذر یہ ہے کہ یورپ ترکی کو واپس لانے کے حوالے سے مطلوب ثقافت اور ضروری آلات کار سے محروم ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یورپ بڑی حد تک منقسم ہے اور فیصلہ کن طور پر اختیار استعمال نہیں کر سکتا۔

دی اکنامسٹ کے نزدیک ان میں سے کوئی بھی عذر قابل اطمینان نہیں اور ایردوآن کے دور کے اختتام تک انتظار کرنا یورپی مفادات کے کام نہیں آئے گا۔ ترکی کی معیشت ایک بار پھر کرنسی کے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے ، قبرص کی حکومت معاندانہ کارروائیوں کے خوف سے نئی بات چیت کے واسطے دباؤ ڈال رہی ہے اور روسی میزائل سسٹم کی ڈیل مغرب کی سیکورٹی کو سبوتاژ کر رہی ہے۔

انقرہ میں یورپی یونین کے سابق سفیر مارک بیرینی کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایردوآن کو نیتو اتحاد کے خلاف استعمال کیا۔ امریکی جریدے کے مطابق "انارکی اور تنہائی کا شکار ترکی ... ہجرت یا دہشت گردی یا کسی بھی اور مسئلے میں یورپ کے لیے قابل اعتماد شریک کے طور پر موزوں نہیں ہو گا"۔

دی اکنامسٹ کے مطابق حقیقی پالیسی کے حوالے سے یورپی نظام کی بہترین مثال ایردوآن کے ساتھ ہجرت کی ڈیل تھی۔ اس کی بنیاد پر یورپی یونین کے ممالک میں آنے والے مہاجرین کی واپسی ممکن ہوئی۔ اس ڈیل کا سبب یورپی یونین کا ترکی پر نفوذ تھا۔

امریکی جریدے کے مطابق ایردوآن جتنا کمزور نظر آتے ہیں وہ اس سے زیادہ کمزور ہیں۔ ان کی مقبولیت کا گراف نیچے آ رہا ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں ان کی جماعت ترکی کے اکثر بڑے شہروں میں شکست سے دوچار ہوئی جن میں استنبول شامل ہے۔ ترکی کو جلد ہی بیرونی اقتصادی مدد کی ضرورت ہو گی۔ ترکی کی اس سیاسی اور اقتصادی کمزوری کے وقت یورپی یونین کو انقرہ پر بڑا نفوذ حاصل کرنے کا اچھا موقع حاصل ہو سکتا ہے۔

دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کا مطلب ہے کہ ترکی پر پابندیوں کا خطرہ وسیع کیا جانا چاہیے۔ شاید اس طرح کی پابندیوں کا جیسا کہ یورپی یونین نے روس پر عائد کیں۔ بعد ازاں پابندیوں میں کچھ نرمی کے ذریعے ایردوآن کو بعض امور پر بات چیت کے لیے میز پر لایا جائے۔ ان امور میں اقتصادی سپورٹ ، جدید کسٹم اتحاد، ترکوں کے لیے ویزے کی نئی آزادیاں اور قبرص میں یونانی اور ترک ٹکڑوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا تصفیہ شامل ہے۔

اس کے عوض یورپی یونین غیر قانونی ڈرلنگ روکنے، جزیرہ قبرص میں ترکی کے عسکری وجود کے خاتمے، ترکی میں مرکزی بینک کی خود مختاری اور اقتصادی اصلاحات کے اقدامات کے مطالبات کر سکتی ہے۔