.

جنوبی کوریا اپنا بحری یونٹ آبنائے ہرمز بھیجے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی کوریا مشرق وسطی میں امریکا کے زیر قیادت میری ٹائم فورس میں شمولیت کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں بحریہ کا ایک یونٹ بھیجا جائے گا جس میں ایک جنگی جہاز بھی شامل ہے۔ مذکورہ یونٹ بھیجنے کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کے تحفظ میں مدد کرنا ہے۔

جنوبی کوریا کے اخبار Maekyung نے پیر کے روز ایک سینئر سرکاری ذمے دار کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی کوریا نے قزاقوں کے انسداد سے متعلق Cheonghae یونٹ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ یونٹ اس وقت صومالیہ کے مقابل سمندر میں مصروف عمل ہے۔ یونٹ کے علاوہ ممکنہ طور پر چند ہیلی کاپٹروں کو بھی بھیجا جائے گا۔

اسی طرح جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے اعلان کے مطابق حکومت خطے میں اپنے بحری جہازوں کی حفاظت کے راستے تلاش کر رہی ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

حالیہ چند ماہ کے دوران آبنائے ہرمز میں ایران کے ساحل کے مقابل تیل بردار جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں تعلقات میں زیادہ بگاڑ آ گیا۔ اس امر نے امریکی ذمے داران کو اس بات پر اکسایا کہ وہ اپنے حلیفوں کو سمندری سیکورٹی کے مشن میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔

دوسری جانب میونخ سیکورٹی کانفرنس کے سربراہ وولفگینگ ایشنگر نے جرمنی کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی دھمکیوں میں اضافے کے پس منظر میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کے لیے برطانیہ کی جانب سے ایک عسکری فورس تشکیل دینے کی دعوت کا مثبت جواب دے۔ ایشنگر نے ہفت روزہ "ویلٹ اوم زونٹیگ" سے بات کرتے ہوئے اتوار کے روز کہا کہ "دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جو عالمی جہاز رانی کی سلامتی پر جرمنی کی طرح انحصار کرتا ہو۔ اس کا سبب جرمنی کا دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان ملکوں میں سے ہونا ہے۔ لہذا جرمنی کی حکومت کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کے لیے یورپی مشن میں شریک ہونا لازم ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ایران نے مغرب کو دو سطح کے چیلنجوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ان میں پہلا سفارتی اور دوسرا سیکورٹی ہے۔ ایک طرف یورپ ایرانی جوہری معاہدہ بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور دوسری طرف یورپی ممالک کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہو گا اور آبنائے ہرمز میں ایسی کسی بھی پیش رفت کو روکنا ہو گا جو کنٹرول سے باہر ہو جائے"۔