.

شام: دیر الزور میں داعش کے سلیپر سیل کیسے کام کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش شام کے شمال مشرقی علاقوں میں میدان جنگ میں تو کہنے کو شکست سے دوچار ہو چکا ہے اور اس کے زیر قبضہ علاقے واگزار کرائے جاچکے ہیں۔ ان پر اب شامی فوج کا کنٹرول ہے یا وہ امریکا کی اتحادی شامی اتحادی فورسز (ایس ڈی ایف) کے زیر قبضہ ہیں مگر داعش شکست سے دوچار ہونے کے بعد نچلے نہیں بیٹھے اور انھوں نے گوریلا جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔

شام کے شمال مشرقی صوبے دیر الزور میں داعش کے سلیپر سیل مکمل طور پر فعال ہیں۔ وہ اپنے انتہا پسند نظریے کی تشہیر کر رہے ہیں اور وہ اپنے سابق زیر قبضہ علاقوں میں مخالفین پرآئے دن گوریلا حملے بھی کرتے رہتے ہیں۔

العربیہ کی رپورٹر رولا الخطیب شام کے شہر دیر الزور میں پہنچ جانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔یہ شہر گذشتہ چار پانچ سال کے دوران میں داعش کا مضبوط گڑھ رہا ہے ۔یہاں اب امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں سے نمٹنے اور ان کی سرگرمیوں کے قلع قمع کے لیے کوشاں ہے۔

العربیہ کی نمایندہ داعش کے سلیپر سیلوں کی کارروائیوں کی کچھ تفصیل منظرعام پر لائی ہیں۔ان سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ڈی ایف کے ایک فوجی کا کہنا تھا کہ’’یہاں داعش کے خفیہ سیل موجود ہیں، ایرانی سلیر سیل ہیں، اسد رجیم کے اپنے سلیپر سیل ہیں۔ ان کے علاوہ فرات ڈھال کے نام سے گروپ اور النصرہ محاذ کے سلیپر سیل موجود ہیں‘‘۔

اس فوجی نے بتایا کہ ’’یہاں ہر روز ہی دھماکے ہورہے ہیں۔روزانہ ہی کوئی نہ کوئی دھماکا خیز ڈیوائس پھٹتی ہے۔یہ علاقہ بہت خطرناک ہوچکا ہے اور سلامتی کی صورت حال ابتر ہوچکی ہے‘‘۔

واضح رہے کہ دریائے فرات کے مشرقی اور مغربی کناروں میں ایک جانب امریکی فوجیوں کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحادی فورسز موجود ہیں اور دوسری جانب اسدی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والی ایرانی فورسز مورچہ بند ہیں۔

دریائے فرات کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کی جانب کشتیوں کے ذریعے اشیاء اور لوگوں کو منتقل کیا جاتا ہے اور یہ گذرگاہ تیل سمیت غیر قانونی اشیاء کی اسمگلنگ کے لیے بھی استعمال ہورہی ہے۔

داعش کو مارچ میں ایس ڈی ایف کے ہاتھوں دیر الزور میں واقع اپنے آخری گڑھ باغوز میں شکست سے دوچارہونا پڑا تھا۔ اس کے سیکڑوں جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور اپنے خاندانوں سمیت خود کو ایس ڈی ایف کے حوالے کردیا تھا۔