.

آبنائے ہرمز : عالمی تنازعات کے حوالے سے دائمی سوختہ دان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار "لاس اینجلس ٹائمز" کے لکھاری ایلن جیمز نے اپنے مضمون میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تصادم کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے جو عالمی تنازعات میں "دائمی سوختہ دان" شمار ہوتا ہے۔

ایلن لکھتے ہیں کہ رواں ماہ 19 جولائی کو ایرانی فورسز نے تیز رفتار کشتیوں کا استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں برطانوی تیل بردار جہاز "اسٹینا امپیرو" اور اس کے عملے کو تحویل میں لے لیا جس میں کئی بھارتی شہری شامل تھے۔ برطانوی جنگی جہاز "مونٹ روز" اس تیز رفتار دھاوے کو روکنے کے لیے مناسب وقت پر نہیں پہنچ سکا۔

ایلن کے مطابق درحقیقت ایسے بہت سے بھولے بسرے واقعات ہیں جو آج کی طرح اخباروں کی شہ سرخیوں میں جگہ بنا سکتے تھے۔ ایک کارگو بحری جہاز خلیج کی ایک بندرگاہ سے چین کی جانب جا رہا تھا .. تاہم اسے آبنائے ہرمز پر پھیلے پہاڑوں کے غاروں میں روپوش قزاقوں کی ٹولیوں کی جانب سے حملے کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ خلیجی ساحلوں پر ایسی جماعتیں ہیں جو مکہ مکرمہ میں حجر اسود کو چوری کر کے پورے عالم اسلام میں بھونچال پیدا کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ ان کے علاوہ بلوچستان کے منحرف عناصر نے آبنائے ہرمز کے نزدیک پرتگال کے ایک بحری جہاز پر حملہ کیا۔ نجد کے قزاقوں کی جانب سے ایک جہاز پر حملے کے بعد برطانیہ نے اپنا جنگی بحری جہاز "ایڈن" خلیج کے علاقے میں بھیجا۔ اس حملے کے نتیجے میں جنوبی ایشیائی افراد پر مشتمل جہاز کا عملہ ہلاک ہو گیا جب کہ جہاز پر سوار یورپی خواتین کو یرغمال بنا کر نا معلوم جگہ منتقل کر دینے کی بھی رپورٹیں موصول ہوئیں۔

مضمون نگار نے مزید کہا کہ تاریخ کے متعدد واقعات آبنائے ہرمز میں تنازعات اور بغاوت کی تحریکوں کے کئی زمانوں کی دلیل ہیں۔

ایلن جیمز کے مطابق نویں صدی عیسوی میں چین کی سمت جانے والے بحری جہاز خطروں سے پُر آبنائے ہرمز سے گزرنے پر مجبور ہو گئے۔ مکہ مکرمہ پر دھاوا بولنے والے القاعدہ یا داعش تنظیم کے ارکان نہیں بلکہ یہ لوگ قرامطہ تھے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ میں حجر اسود کو قبضے میں لے کر 930 عیسوی میں اسے خلیج منتقل کر دیا۔ بلوچیوں نے خلیج میں تجارت بھی کی اور دھاوا بھی بولا۔ انہوں نے وہاں جاری چھوٹی جھڑپوں میں بھی حصہ لیا۔ یہ جھڑپیں اُس وقت رونما ہوئیں جب 16 ویں صدی سے لے کر 17 صدی کے اوائل تک پرتگالیوں نے آبنائے ہرمز کے راستے ہونے والی تجارت پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ سال 1819 میں برطانویوں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنے جنگی جہاز ایڈن کو خلیج بھیجا تا کہ قزاقی کی کارروائیوں پر قابو پایا جا سکے۔

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ آخر کار انارکی اور شورشوں کا سامنا کرنے والے برطانویوں نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی جو 20 ویں صدی تک جاری رہی۔ انہیں اس بات کا ادراک ہو گیا کہ محض خطرات پر حملہ کرنا آبنائے ہرمز میں امن کے قیام کے واسطے کافی نہیں ہو گا بلکہ پورے خلیج کو محفوظ بنانا ہو گا۔

قزاقوں کی کارروائیاں

ایلن کے مطابق 1820 میں برطانویوں نے اس پالیسی کو نافذ کیا۔ پالیسی کے تحت متعین شیوخ اور ان کے لوگ اپنی اراضی سے ہونے والے حملوں سے نمٹنے کے ذمے دار تھے۔

برطانیہ کا تیار کردہ نقشہ

مضمون نگار نے مزید تحریر کیا ہے کہ 1853 میں شیوخ اور برطانیہ نے دائمی سمندری جنگ بندی پر دستخط کیے۔ اس دوران قزاقوں کی کارروائیوں میں ڈرامائی حد تک کمی واقع ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ برطانویوں نے ایک نقشہ تیار کیا جس میں خلیج میں واقع جزیروں کے ہزاروں میلوں کو شامل کیا گیا۔ اس حوالے سےGazetteer of the Persian Gulf کے نام سے دو جلدوں پر مشتمل ایک انسائیکلوپیڈیا بھی تیار کیا گیا جو 20 ویں صدی کے اوائل میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ یہ آج بھی اُن مؤرخین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک بے مثال ذریعہ ہے جو خطے میں حکمراں خاندانوں کے پیچیدہ تعلقات کی تفصیلات کے متلاشی ہیں۔ یہ سب کچھ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے واسطے کیا گیا۔ برطانویوں نے 1820 سے 1970 تک اس مقصد کو بڑی حد تک یقینی بنا لیا تھا۔

ایلن کے مطابق گذشتہ صدی میں 70 کی دہائی میں استعماری دور کے اختتام پذیر ہونے پر خلیج سے برطانیہ کا انخلا عمل میں آیا۔ اسی طرح 1979 میں امریکا کے حلیف شاہ ایران کا تختہ الٹ دیا گیا۔ بعد ازاں امریکا نے جو کہ خلیج اور آبنائے ہرمز کو ایران اور سوویت یونین کی مداخلت سے محفوظ رکھنا چاہتا تھا ... برطانوی انخلا سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کیا۔

کارٹر کا اعلان

ایلن جیمز لکھتے ہیں کہ 1980 میں امریکی صدر جمی کارٹر نے "Carter Doctrine" کا اعلان کیا۔ اس کے مطابق امریکا خلیج کے راستے تجارت اور تیل کی ترسیل کی سیکورٹی کو یقینی بنائے گا۔ لہذا 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں امریکا نے بارہا مداخلت کی۔ اس میں 1988 میں کارگو کو ایرانی خطرات سے بچانے سے لے کر 1990 میں کویت پر عراق کے حملے کے بعد تیل کی ترسیل کا تحفظ شامل ہے۔

ایلن کے نزدیک گذشتہ چند دہائیوں کے دوران ہدف یہ تھا کہ کسی بھی ملک کو خلیج پر مکمل غلبہ پانے سے روکا جائے۔ لہذا سال 2000 کے بعد اولین دہائی میں عراق کی جنگ کے بعد اسے اس مساوات سے خارج کر دیا گیا۔ عرب ملکوں کو بھی اس بات کا ادراک ہو چکا تھا کہ عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد انہیں ایران کے بڑھتے غلبے کے خلاف دفاع کی ضرورت ہے۔

ایلن کے مطابق 2015 میں طے پانے والے ایرانی جوہری معاہدہ اس بات پر قادر تھا کہ جوہری تنازع کنٹرول میں رہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس معاہدے سے علاحدگی نے اس وقت آبنائے ہرمز کی سیکورٹی میں افراتفری پیدا کر دی ہے۔ یہاں تک کہ ایک تنگ آبی گذر گاہ ایک بارودی بکس میں تبدیل ہو گئی۔

ٹرمپ کے فیصلے

ایلن کے مطابق ٹرمپ نے وزیر خارجہ پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر بولٹن کے خلاف جا کر دو اچھے فیصلے کیے۔ جون میں امریکی ڈرون طیارہ گرائے جانے کے بعد ٹرمپ کا ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ اسی طرح ایران کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے کا اعلان بھی صحیح سمت تھا۔

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ اگرچہ کسی بھی پیش رفت کے مواقع دھندلے پڑ رہے ہیں تاہم اب بھی اس خطرناک کھیل کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے امریکی جانب کو جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہونے کا اظہار کرنا ہو گا جب کہ ایران اور اس کے پاسداران انقلاب کو بعض رعائتیں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں عسکری استعمال کے مرحلے تک پہنچنے ک حوالے سے یورینیم کی افزودگی کا عمل روکنا اور آبنائے ہرمز میں سمندری کارگو کے لیے تہران کی دھمکیوں کا باب بند کرنا شامل ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایران کے آخری تصرفات غیر ذمے دارانہ نوعیت کے تھے۔