بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ممکنہ حملوں کا نیا شوشہ چھوڑ دیا گیا

مقبوضہ وادی سے تمام سیاحوں نونکل جانے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارتی حکومت نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ممکنہ حملوں کے پیش نظر سیاحوں کو واپس جانے کی ہدایت کی ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے سیاحوں کو یہ ہدایت ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دوسری جانب کنٹرول لائن پر سخت تنائو اور کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

جموں وکشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں سیاحت کے لیے اس وقت حالات موزوں نہیں ہیں۔ سیاحوں پر 'دہشت گردانہ' حملے کیے جا سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے نام نہاد خطرے کے پیش نظر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کو ملنے والی معلومات کے مطابق وادی میں موجود سیاح خطرے میں ہیں۔ کسی بھی وقت کسی علاقے میں کوئی بڑی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ادھر کشمیر میں تعینات بھارتی حکومت کے کمانڈر جنرل کانوال جیت سنگھ دیلون نے دعویٰ کیا ہے کہ تلاشی کے دوران فوج کو پاکستانی ساختہ سنائپر گن اور مائنز ملے ہیں۔ یہ اسلحہ امرناتھ یاترا کے راستے سے قبضے میں لیے گئے۔ اسے راستے سے ہرسال ہزاروں ہندوں کشمیر میں یاترا کے لیے آگے ہیں۔

ایک پریس کانفرنس میں بھارتی فوجی افسرکا کہنا تھا کہ اس سلحہ کا ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت یاتریوں پر حملوں کی کوشش کررہا ہے۔

ادھر مقبوضہ کشمیر میں ایک پولیس افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں اور خوراک زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کرلیں۔

اس کے علاوہ پٹرول پمپ مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں ایندھن ذخیرہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں