سعودی خواتین نئی آزادیوں سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں: گارجیئن

سعودی خواتین کا نئی آزادیوں پرجوش رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے خواتین کےلیے متعارف کردہ نئی اصلاحات اور شہری آزادیوں کے پوری دنیا میں چرچے ہیں۔ برطانوی اخبار گارجیئن میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں سعودی عرب میں آزادی نسواں کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو غیر معمولی اہمیت کے حامل قرار دیا ہے۔

گارجین میں شائع ہونے والے فاضل مضمون نگار 'مارٹن چولوو' کے مضمون میں بھی سعودی عرب میں خواتین کی شہری آزادیوں اور ان کے معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔

انگریز مضمون نگار لکھتے ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت نے خواتین کے لیے جو نئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور ان سے خواتین بھرپور طور پر فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ خواتین کو سفرکی آزادی، طلاق، پاسپورٹ کے حصول کی آزادی اور بہت سے امور میں ولی یا سر پرست کی قید سے آزادی اہمیت کی حال ہے۔

مارٹن چولوو کے مطابق سعودی حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی نئی اصطلاحات اور آزادیوں پر قوم بالخصوص خواتین کی طرف سے مثبت رد عمل سامنے آیا ہے۔ خواتین کی طرف سے حکومت کے اقدام کو غیر معمولی طور پر سراہا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کی شہری آزادیوں سے مردوں کے حقوق پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے بلکہ خواتین کو ملنے والی آزادیوں کے نتیجے میں مردوں کو کئی ذمہ داریوں کے بوجھ سے آزادی ملی ہے۔ نئے حقوق ملنےسے خواتین میں بیداری پیدا ہوگی۔ اس کا اندازہ ان کے پر جوش رد عمل سے بھی کیا جاسکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی ایک 30 سالہ خاتون عزہ نے نئے حقوق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے خواتین کے لیے نئے اقدامات بہت سے مسائل کے حل میں مدد گار ہوں گی۔ میرے والد 2000ء میں وفات پاگئے تھے اور میرا کوئی دوسرا سرپرست نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے پاسپورٹ کے حصول میں بہت مشکل پیش آئی۔ سنہ 2018ء میں مجھے کئی مشکلات سے گزر کر پاسپورٹ مل پایا مگر اب میری جیسی بہنوں کی یہ مشکل حل کر دی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عزہ کا کہنا تھا کہ بعض بنیاد پرست حلقوں کی طرف سے خواتین کی آزادیوں پر بے جا اعتراض کیا جا رہا ہے مگر یہ لوگ کامیاب نہیں ہوں گے۔ میں پورے شعور کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ سعودی عرب میں خواتین بیدار ہو رہی ہیں۔ ان کا مستقبل روشن اور تاب ناک ہے۔ ہماری بھی روح، ارادہ اور عزم ہے اور ہم بھی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔

سعودی عرب میں خاندانی بہبود کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن ڈاکٹر مہا المنیف نے کہا کہ نئی شہری آزدیوں سے خواتین کو طاقت حاصل کرنے، خود مختار ہونے اور اپنی ذات اور خواہشات کی تکمیل کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا سعودی عرب میں خواتین ماضی کے دور سے نکل چکی ہیں۔ ہمیں ہر چھوٹے بڑے معاملے میں مردوں کے فیصلوں کا محتاج ہونا پڑتا تھا مگر اب حالات تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہےہیں۔

سعودی عرب میں خواتین کی طرف سے نئے اقدامات پر جس پرجوش رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری قوم نے حکومتی فیصلوں کو تسلیم کیا ہے۔ 32 سالہ عبیر مبارک بن فہد کا کہنا ہے کہ مملکت میں بہت سی چیزیں قبائلی رویات کے تحت چل رہی تھیں جن کا دین اسلام کی تعلیمات سے تعلق نہیں تھا۔ یہ صرف معاشرتی رواج ہیں۔ اسلام مردو زن میں بھی مساوات کی تعلیم دیتا ہے

اسپتال میں نرسنگ کے فرائض انجام دینے والی ھادی العنزی کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں سماجی روایات بہت مضبوط ہیں اور ان کے خواتین پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے خواتین کی شہری آزادیوں کے حوالے سے نئے اعلانات سے خواتین کو درپیش مشکلات دور ہوں گی۔ اس کا کہنا ہے کہ میری 10 سالہ بیٹی ہے۔ مجھے امید ہے معاشرتی پابندیوں کی وجہ سے جن مسائل کا مجھے سامنا رہا میری بیٹی ان سے دوچار نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں