.

بھارت نے جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی حکومت نے دستور کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم ہو جائے گی۔

بھارت کی راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے شور شرابے کے باوجود کشمیر سے متعلق قوانین میں تبدیلی کے لیے بل ایوان میں پیش کیے۔ امیت شاہ نے یہ بھی کیا کہ جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام ایک الگ خطہ بنے گا اور ریاست کی تشکیل نو کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جس دن صدر اس قرارداد پر دستخط کریں گے اسے گزٹ میں شائع کر دیا جائے گا اسی دن سے یہ دفعہ کالعدم ہو جائے گی۔ امیت شاہ نے جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں یعنی لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کرنے کا بل بھی پیش کیا۔

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمان کے ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں اعلان کیا کہ لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے وفاق کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنایا جارہا ہے لیکن وہاں اسمبلی نہیں ہوگی، جبکہ جموں و کشمیر کو بھی ایک علاحدہ یونین ٹیریٹری بنایا جا رہا ہے تاہم وہاں اسمبلی ہوگی۔ یونین ٹیریٹری ہوجانے کے بعد ریاستی عوام وزیر اعلٰی کا انتخاب تو کرسکیں گے لیکن تمام تر اختیارات بھارتی صدر کی طرف سے نامزد کردہ گورنر کے پاس ہوں گے۔ اس وقت بھارت کے نو صوبے یونین ٹیریٹری کے تحت ہیں۔

بل کے مطابق لداخ کے پاس چنڈی گڑھ کی مانند مقننہ ہوگی جبکہ جموں وکشمیر کے پاس دہلی اور پڈوچیری کی مانند مقننہ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کے عوام عرصہ دراز سے اسے مرکز کے زیر انتظام خطہ قرار دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ امیت شاہ کے مطابق سرحد پار سے دراندازی اور سیکورٹی صورت حال کے پیش نظر جموں وکشمیر کو یونین ٹیریٹری بنایا جائے گا۔

ایوان میں ہنگامہ آرائی

اس اعلان پر ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ سابق وزیر اعلٰی محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی کے رکن میر محمد فیاض نے بھارتی آئین کی کاپی پھاڑ ڈالی جب کہ ایک اور رکن نے اپنے کپڑے پھاڑ لیے۔

ایوان میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد ایوان کے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے حکومت کے فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا۔ البتہ متعدد دیگر سیاسی جماعتوں نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا۔

پارلیمنٹ میں مذکورہ قراردادوں کے پیش کیے جانے سے قبل سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم نریندر مودی، امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر خارجہ جے شنکر اور سلامتی سے متعلق دیگر اعلٰی حکام نے شرکت کی۔

دفعہ 370 اور 35 اے کیا کہتی ہے؟

بھارت کے آئین کے آرٹیکل 35-اے کے تحت بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں زمین اور دوسری غیر منقولہ جائیداد خریدنے، سرکاری نوکریوں اور وظائف، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف اس کے مستقل باشندوں کو حاصل ہے۔

اس آئینی شق کے تحت جموں وکشمیر کے پشتنی باشندوں کے لیے خصوصی حقوق اور استحقاق کا تعین کرنے کا اختیار ریاستی قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہے.

بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں وکشمیر کو یونین میں ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ دفعہ 35 آئین کی ایک اور دفعہ 370 کی ذیلی شق ہے۔ بھارت کی سپریم کورٹ میں دفعہ 35-اے کے خلاف کئی درخواستیں زیرِ سماعت ہیں-

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) عرصہ دراز سے جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیٹ کی مخالف رہی ہے اور یہ اس کے انتخابی منشور کا بھی اہم حصہ رہا ہے۔

پاکستان دفتر خارجہ کا ردعمل

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بھارتی اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیرقانونی اقدام کے خلاف تمام آپشنز بروئے کارلائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسے کسی بھی اقدام کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ بھارت کے یکطرفہ اقدامات کشمیر کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارت کے ایسے اقدامات کشمیریوں کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہوں گے اور پاکستان بھی بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف تمام آپشنز بروئے کار لائے گا۔