.

یمن میں اقوام متحدہ کے تحت امدادی اداروں میں ’کرپشن کی گنگا‘ کیسے بہتی رہی ہے؟

اقربانوازی، اربوں ڈالرکی نقد رقوم، ادویہ کی لوٹ مار اور وسائل کے ناجائزاستعمال میں پاکستانی اور یمنی عہدے دار بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگ زدہ یمن میں اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی امدادی اداروں میں بدعنوانیاں، لوٹ کھسوٹ اور سرکاری وسائل کا بے جا استعمال عروج پر ہیں۔عالمی امدادی ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدے دار خود ہی کرپشن کی اس گنگا میں کسی احتساب سے بے خوف ہو کر اشنان کر رہے ہیں اور انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ ان کے خلاف دستاویزی شواہد حوثی ملیشیا کے جنگجو زبردستی چھین کر ضائع کر رہے ہیں یا وہ انھیں عالمی اداروں کے محتسبوں کے ہاتھ لگنے ہی نہیں دے رہے ہیں۔

یمن میں ستمبر حوثی ملیشیا کی منتخب قومی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کے بعد اقوام متحدہ کے تحت مختلف اداروں نے امدادی سرگرمیاں تیز کردی تھیں۔ان میں عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) اور عالمی خوراک پروگرام پیش پیش رہے ہیں لیکن اب ان دونوں اداروں ہی میں کرپشن کی نئی نئی تفصیل سامنے آرہی ہے۔ان بدعنوانیوں میں عالمی اداروں کے حکام کے ساتھ حوثی ملیشیا کے سرکردہ لیڈر اور عدن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کےعض اعلیٰ عہدے دار بھی شامل رہے ہیں اور انھوں نے بھی حصہ بقدر جثہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

مگر وہ اپنے خلاف مواد کو اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کے ہاتھ لگنے نہیں دے رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں نے یمن میں عالمی ادارہ صحت کے امدادی پروگرام میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کے لیے دستاویزی ثبوت کے طور پر عملہ سے لیپ ٹاپ اور دوسرا مواد اکٹھا کیا تھا۔وہ جب یمنی دارالحکومت صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے روانگی والے ہال میں پہنچے اور طیارے میں سوار ہونے کی تیاری کر رہے تھے کہ اس دوران میں حوثی ملیشیا کے جنگجوآئے،ان سے یہ سب کچھ چھین جھپٹ کرکے چلتے بنے اور تحقیقات کرنے والے حکام کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔

حوثیوں کو ڈبلیو ایچ او کے عملہ ہی کی ایک خاتون رکن نے ٹیم کی روانگی کی اطلاع فراہم کی تھی۔اس کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ اگر مکمل تحقیقات ہوتی ہیں تو اس کی اپنی بدعنوانیاں بے نقاب ہوجائیں گی۔

ڈبلیو ایچ او میں مالی بدعنوانیوں کے علاوہ غیر تربیت یافتہ اور اسامی کے لیے درکار مطلوبہ صلاحیت واہلیت سے کم تر تعلیم اور تجربے کے حامل افراد کو بھاری مشاہرے اور مراعات پر بھرتی کیا گیا تھا۔ان کے بنک کھاتوں میں کروڑوں ڈالر جمع کرائے گئے تھے۔ پھرانھوں نے اپنی جان پہچان والے افراد کو قواعد وضوابط کی تکمیل کے بغیر ٹھیکے دے دیے تھے۔

اقوام متحدہ کے تحت حقوقِ اطفال کے لیے سرگرم ایجنسی یونیسیف اپنے عملہ کے ایک رکن کے خلاف حوثی ملیشیا کے ایک لیڈر کو سفر کے لیے اپنی سرکاری گاڑی مہیا کرنے کی تحقیقات کررہی ہے۔ان صاحب کا نام خرم جاوید ہے اور وہ پاکستانی شہری ہیں۔

خرم جاوید نے یونیسیف سے ملنے والی اپنی گاڑی حوثی ملیشیا کے ایک سینیر عہدہ دار کو دے رکھی تھی جس کی وجہ سے وہ عرب اتحاد کے فضائی حملوں میں محفوظ رہے تھے۔ مسٹر خرم پاکستانی کے حوثی ملیشیا کی سکیورٹی ایجنسیوں سے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔حوثیوں نے ان کےنام کا صنعاء کی ایک شاہراہ پرایک بڑا بل بورڈ بھی لگا رکھا تھا جس میں ان کی (حوثیوں کے لیے)’خدمات‘ پر شکریہ ادا کیا گیا تھا۔انھیں اب کہیں اور منتقل کردیا گیا ہے لیکن ان کی جائے تعیناتی کا نام نہیں بتایا گیا ہے۔

یمنی کارکنان گذشتہ تین ماہ سے عالمی اداروں کی امدادی رقوم اور سامان کی تقسیم کے عمل میں شفافیت کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے ’’رقم کہاں گئی؟‘‘ کے عنوان سے ایک مہم بھی برپا کررکھی ہے۔وہ اقوام متحدہ اور امدادی ایجنسیوں سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ 2015ء کے بعد یمن میں امداد کی شکل میں آنے والے کروڑوں ڈالر کا حساب دیا جائے کہ وہ کہاں خرچ کیے گئے؟ یا وہ کہاں گئے؟

ڈبلیو ایچ او نے گذشتہ سال نومبر میں یمنی دارالحکومت صنعاء میں اپنے دفتر کے سربراہ اطالوی ڈاکٹر نیویو زگاریا کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کی تھی۔ یہ صاحب 2016ء سے ستمبر2018ء تک صنعاء میں تعینات رہے تھے۔ان کے خلاف سینتیس صفحات کو محیط رپورٹ یکم مئی کو جاری کی گئی تھی اور اس میں صرف یہ کہا گیا تھا یمن دفتر کا مالیاتی اور انتظامی کنٹرول اطمینان بخش نہیں تھا۔اس میں بھرتیوں میں بے ضابطگیوں،مسابقت کے بغیر ٹھیکے دینے اور سامان کی خریداری میں نگرانی کا عمل موثر نہ ہونے کا ذکر تھا۔

مسٹر زگاریا یمن میں دسمبر2016ء میں وارد ہونے سے قبل بیس سال تک عالمی ادارہ صحت میں ملازمت کرچکے تھے۔ یمن آنے سے پہلے وہ فلپائن میں چار سال تک ادارے کے امور کے ذمے دار رہے تھے۔انھوں نے نومبر2013ء میں حیان طوفان کے بعد عالمی ادارے کی امدادی سرگرمیوں میں نیک نامی کمائی تھی۔

اس پس منظر میں ڈاکٹر زاگاریا کو یمن میں ادارے کی امدادی سرگرمیوں کے لیے ایک اچھا انتخاب خیال کیا جارہا تھا لیکن یہاں آکر انھوں نے اپنی نیک نامی اور نام ہی کو بٹا لگا دیا۔انھوں نے اقربا نوازی اور بدعنوانی کی مثالیں قائم کردیں اور فلپائن میں اپنے ماتحت کام کرنے والے نچلے درجے کے اہلکاروں کو یمن میں بھاری مشاہروں پر بھرتی کر لیا۔یمن میں ڈبلیو ایچ او کے سابق اور موجودہ چھے اہلکاروں کے مطابق ان میں سے دو بھرتی کنندگان کا کام یہ تھا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے کتوں کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔ان کا بھرتی کردہ ماتحت عملہ مطلوبہ تعلیمی اہلیت پر پورا نہیں اترتا تھا۔ان میں فلپائن کی ایک جامعہ کا طالب علم اور سابق ٹرینی بھی شامل تھا جس کا ایک اعلیٰ عہدے اور بھاری تن خواہ پر تقرر کیا گیا تھا۔

دستاویز کے مطابق یمن کی قانونی حکومت کے قائم مقام دارالحکومت عدن میں ڈبلیو ایچ او کے دفترمیں بھی بدعنوانیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے اور اس میں یمنی حکومت کے ایک عہدہ دار بھی پیش رہے ہیں۔ انھوں نے جنوبی شہرمکلا میں طبی خدمات مہیا کرنے کے لیے اپنی ایک تنظیم کو ایک ٹھیکا دلوایا تھا لیکن وہ خدمات مہیا کیے بغیر ہی کاغذی کارروائی کے ذریعے عالمی ادارے سے رقوم اینٹھتے رہے تھے۔

عالمی ادارہ صحت کی تمیمہ الغولی نامی ایک اہلکار کی حوثیوں سے ساز باز تھی اور انھوں نے ہی حوثی ملیشیا کو عالمی ادارے کی تحقیقاتی ٹیم کی سرگرمیوں اور اس کی صنعاء سے روانگی کے بارے میں آگاہ کیا تھا جس کے بعد حوثیوں نے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دھاوا بول کر تحقیقاتی ٹیم سے لیپ ٹاپ ، دستاویزات اور دوسرا سامان چھین لیا تھا۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس خاتون نے از خود ہی ’’بھوت عملہ‘‘ بھرتی کررکھا تھا اور وہ ان کے نام پر تن خواہیں وصول کرتی رہی تھیں۔ان کی یہ بدعنوانیاں منظرعام پر آنے کے بعد انھیں معطل کیا جاچکا ہے لیکن وہ بدستور ڈبلیو ایچ او کی ملازمہ ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے قواعد وضوابط کے تحت امدادی سرگرمیوں کو بحال رکھنے کے لیے عملہ کے بنک کھاتوں میں براہ راست بھی رقوم منتقل کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر زگاریا نے اس ضابطے کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور عملہ کے بعض ارکان کے بنک اکاؤنٹس میں دس لاکھ ڈالرز تک کی رقم براہ راست منتقل کردی تھی لیکن دستاویزات کے مطابق اس رقم کے جائے مصرف کا کچھ پتا نہیں کہ وہ کہاں اور کیسے خرچ کی گئی؟

عالمی ادارہ صحت کی عدن شاخ میں ڈاکٹر زگاریا کے نائب کے طور پر کام کرنے والے عمرزین کے ذاتی اکاؤنٹ میں کروڑوں ڈالر منتقل کیے گئے تھے۔دستاویزات کے مطابق مسٹر عمر زین کے پاس اس میں نصف رقم کا کوئی حساب کتاب نہیں تھا۔وہ عدن میں یمنی وزیر صحت کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے تھے۔انھوں نے جنوبی شہر مکلا میں اپنی ذاتی غیر منافع بخش تنظیم کو تیرہ لاکھ ڈالر کا ٹھیکا دیا تھا اور برسرزمین کوئی عملی کام کرنے کے بجائے من گھڑت رپورٹس سے ہی خانہ پری کرلی تھی۔اس کے بعد یونیسیف نے زین کی تنظیم کے ٹھیکے کی تجدید سے انکار کردیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک پینل کی خفیہ رپورٹ کے مطابق حوثی حکام امدادی ایجنسیوں پر اپنے وفاداروں کو بھرتی کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالتے رہتے تھے اور وہ ان کے عملہ کے ویزے منسوخ کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے تھے۔اس رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا عملہ بھی حالیہ برسوں کے دوران میں امدادی سامان کی چوری کے واقعات میں ملوث ہوسکتا ہے۔

عالمی ادارے کی داخلی رپورٹس کے مطابق جنگ زدہ صوبے تعز میں حوثیوں نے 2016ء اور2017ء میں ادویہ اور امدادی سامان سے لدے ٹرک لوٹ لیے تھے۔ انھیں بعد میں عرب اتحاد کے خلاف لڑنے والے حوثی جنگجوؤں میں تقسیم کیا گیا تھا یا پھر اس ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں میں دوا خانوں میں بیچ دیا گیا تھا مگر اقوام متحدہ کے تحت امدادی ایجنسیاں یمن میں اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں اور حوثیوں کی دیدہ دلیری سے لوٹ مار پر قابو پانے میں ناکام رہی ہیں جس سے خود ان کے اپنے امدادی کاموں میں شفافیت کے بارے میں سوال اٹھنا شروع ہوگئے تھے اور اب مختلف سطحوں پرادارہ جاتی تحقیقات جاری ہیں۔