ایشیا پیسفک میں امریکی میزائلوں کی تنصیب کی صورت میں چین کی انتقام کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین نے امریکا کو ایشیا اور بحر الکاہل میں میزائلوں کی تنصیب کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔ علاوہ ازیں خطے کے ممالک بالخصوص جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا پر بھی زور دیا ہے کہ وہ "ہوشیار" رہیں۔

چینی وزارت خارجہ میں ہتھیاروں کے کنٹرول کے ڈائریکٹر جنرل فو کونگ نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ "چین خاموش تماشائی بن کر نہیں رہے گا .. اگر امریکا نے دنیا کے اس خطے میں درمیانی مار کرنے والے میزائل نصب کیے تو پھر چین انتقامی اقدامات پر مجبور ہو جائے گا"۔ فو کونگ نے مزید کہا کہ "ہم پڑوسی ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خبردار رہیں اور اپنی سرزمین پر امریکی میزائلوں کی تنصیب کی اجازت نہ دیں کیوں کہ یہ امر ان ممالک کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہر گز نہ ہو گا"۔

اس سے قبل امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر ہفتے کے روز اعلان کر چکے ہیں کہ امریکا ایشیا پیسفک میں نئے میزائلوں کی تنصیب کے عمل میں تیزی چاہتا ہے تا کہ خطے میں چین کے بڑھتے نفوذ کو قابو کیا جا سکے۔ ایسپر کے مطابق اس عمل کا چند ماہ میں مکمل ہو جانا بہتر ہے تاہم یہ عام طور سے ان امور میں توقع سے زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے اس مقام کا تعین نہیں کیا جہاں امریکا ان میزائلوں کو نصب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکا جمعے کے روز انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) معاہدے سے علاحدہ ہو گیا تھا۔ درمیانی مار کرنے والے میزائلوں پر روک لگانے سے متعلق یہ معاہدہ واشنگٹن اور ماسکو کے بیچ سرد جنگ کے دوران طے پایا تھا۔

واشنگٹن کے پاس اب موقع ہے کہ وہ چین کو پچھاڑ دے کیوں کہ بیجنگ کے اسلحے خانے کا بڑا حصہ ایسے ہتھیاروں پر مشتمل ہے جو مذکورہ معاہدے کے تحت ممنوعہ ہیں۔ چین نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں