خلیج میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے قائم اتحاد میں برطانیہ کی شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ نے خلیج میں امریکا کے زیر قیادت سمندری سیکورٹی مشن میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ مشن کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع بین والس نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ "ہم امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے کوشاں ہیں تا کہ خلیج ہرمز میں مسائل کا بین الاقوامی سطح پر حل تلاش کیا جا سکے"۔

والس نے زور دے کر کہا کہ "برطانیہ اپنی شپمنٹ کو غیر قانونی دھمکیوں سے محفوظ بنانے کے لیے پُرعزم ہے .. اس وجہ سے ہم آج خلیج میں ایک نئے سمندری سیکورٹی مشن میں شامل ہو رہے ہیں"۔

ادھر ایک برطانوی سیکورٹی ذریعے "رائٹرز" کو بتایا کہ نئے مشن میں تمام تر توجہ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے تحفظ پر ہو گی۔ ذریعے نے مزید بتایا کہ لندن اُن پابندیوں میں ہر گز شامل نہیں ہو گا جو امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کی جا رہی ہیں۔

گذشتہ ماہ ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک برطانی تیل بردار جہاز "اسٹینا امپیرو" کو پکڑ لیا تھا۔ پاسداران کا دعوی ہے کہ جہاز نے سمندری خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔ اس سے دو ہفتے قبل برطانیہ نے جبل طارق کے نزدیک ایران کا ایک تیل بردار جہاز اس دعوے کے ساتھ تحویل میں لے لیا تھا کہ اس نے شام پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب کا کہنا ہے کہ خلیج میں امریکا کے زیر قیادت سمندری فورس میں لندن کی شمولیت کا مطلب ایران کے حوالے سے اسلوب میں تبدیلی نہیں ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ برطانیہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کے واسطے ایران کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ راب نے مزید کہا کہ "ہمارا مقصد خطے میں جہاز رانی کی آزادی کا احترام یقینی بنانے کی غرض سے وسیع ترین بین الاقوامی سپورٹ کا حصول ہے"

واشنگٹن خلیج میں تجارتی جہازوں کے ہمراہ ہونے کے واسطے ایک بین الاقوامی اتحاد کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ لندن نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ یورپی ممالک کے ساتھ ایک حفاظتی فورس تشکیل دینے کا خواہش مند ہے۔ یہ اعلان آبنائے ہرمز میں ایران کے ہاتھوں برطانی پرچم بردار آئل ٹینکر کو قبضے میں لیے جانے کے بعد سامنے آیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں