.

'امریکا ۔ چین معاشی جنگ کی قیمت ارب پتیوں کو چکانا پڑ رہی ہے'

دو طرفہ تجارتی جنگ سے عالمی ارب پتی 1 کھرب 17 ارب ڈالر سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں امریکا اور چین کے درمیان جاری معاشی محاذ آرائی نے نہ صرف دونوں ملکوں کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں بلکہ دونوں ملکوں کی معاشی جنگ نے عالمی ارب پتی لوگوں کو بھی غیرمعولی نقصان پہنچایا ہے۔

'بلومبرگ' کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان جاری معاشی جنگ سے عالمی مالیاتی منڈی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ حتی کہ عرب ممالک منڈیاں بھی اس آندھی کے تھپیڑے کھا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیجنگ اور واشنگٹن میں جاری معاشی جنگ کے نتیجے میں ارب پتی شخصیات کو اب تک ایک کھرب 17 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ چینی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے اس ایک بیان نے عالمی منڈی پر اثرات مرتب کیے۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد چند گھںٹوں کے اندر عالمی ارب پتی لوگوں کی دولت میں 2 اعشاریہ 1 فی صد کمی ہوگئی

'بلومبرگ' کی رپورٹ کے مطابق 'ڈائو جونز' کو سال 2019ء کے دوران چین ۔ امریکا معاشی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔ گذشتہ روز عالمی اسٹاک مارکیٹ میں ڈائو جونز 760 پوائنٹ کے نقصان کے ساتھ 25 ہزار 717 پوائنٹ پر بند ہوا۔ اس کے علاوہ امریکی صدر کے اعلان سے 21 عالمی ارب پتی شخصیات کے حصص میں کمی آئی۔ یہ کمی چین اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ کا نتیجہ ہے۔

'امازون' کمپنی کے مالک جیو بیزوس تین ارب 40 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ اسٹاک مارکیٹ میں عالمی ارب پتی شخصیات کے حصص چھ ماہ کی نچلی ترین سطح پرآگئے۔ 23 جولائی کے بعد 10 ارب پتی 19 ارب ڈالر کی دولت سے محروم ہوئے ہیں۔