'ایس 400' کو امریکا سے تعلقات بگاڑنے کا سبب نہیں بننے دیں گے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روسی دفاعی نظام'ایس 400' کی بناء پر انقرہ کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی اور امریکا دونوں'نیٹو' کے رکن ہیں اور ان دونوں ملکوں کے تعلقات روسی دفاعی نظام 'ایس 400' کے اسیر نہیں۔

انقرہ میں ترک سفیروں سے ملاقات میں صدر طیب ایردوآن نے کہا کہ روس کا دفاعی نظام' ایس 400' اور امریکا کے 'ایف 35' جنگی طیاروں کی ڈیل دونوں الگ الگ معاہدے ہیں۔ ایک کی وجہ سے دوسرے کو خراب کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

طیب ایردوآن نے کہا کہ اگر ترک فوج شمالی شام میں داخل نہ ہوئی تو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

چند روز پیشتر ترک صدر طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ وہ شمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی کنارے کرد پروٹیکشن یونٹ نامی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے امریکا اور روس کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے۔

ادھر دوسری جانب امریکی وزیر دفاع مارک اسپر نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ شمالی شام میں ترکی کا فوجی آپریشن ناقابل قبول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ انقرہ شمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں فوجی آپریشن کے بجائے بات چیت سے مسئلے کا حل نکالے گا۔

جاپان کے دورے کےدوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر اسپر کا کہنا تھا کہ شمالی شام میں ترکی کی طرف سے یک طرفہ کارروائی قابل قبول نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں