.

ترکی نے ایک اخباری ویب سائٹ اور متعدد فیس بک اکائونٹ بلاک کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی ایک عدالت کےحکم پر'بیانیت' نیوز ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر دسیوں صفحات کو بلاک کردیا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ترکی کی عدالت کی طرف سے نیوز ویب سائٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ 'فیس بک' کے دسیوں صفحات کو بلاک کرنے کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے تحت حکام نے 'بیانیت' اخباری ویب سائٹ اور 135 سوشل میڈیا اکائونٹ بند کیے ہیں۔ اس کے علاوہ 'یوٹیوب' اور ڈیلی موشن پر متعدد ویڈیوزکو بھی بلاک کیا گیا ہے۔ترک حکام نے ترکی کے کردوں کی حامی خاتون رکن پارلیمنٹ 'اویا ایرسوی' کا فیس بک پیج بھی بلاک کردیا ہے۔

ترک عدالت کی طرف سے یہ واضح نہیں کیا گیا آیا ان فیس بک اکائونٹس پر کس قسم کا مواد موجود تھا تاہم عدالت کا کہنا ہے کہ انہیں قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت بند کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 'بیانیت' ویب سائٹ سنہ 1997ء کو استنبول میں قائم کی گئی تھی۔ یہ ویب سائٹ ترکی میں انسانی حقوق، خواتین پر تشدد روکنے اور آزادی اظہار رائے کے حوالے سے مضامین اور رپورٹس شائع کرنے کے لیے مشہور ہے۔ یہ ویب سائٹ ترکی ، کرد اور انگریزی زبانوں میں مواد شائع کرتی ہے۔ ویب سائٹ کی خاتون وکیل مریش ایبوگلو کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ اچانک سامنے آیا۔ اس حوالے سے ہمیں پہلے کسی قسم کی کوئی وارننگ یا اطلاع نہیں دی گئی۔

خیال رہے کہ ترکی میں 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد حکومت نے مخالفین کو دبانے کے لیے ابلاغی اداروں پر پابندیاں عاید کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ آئے روز اخباری ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے صفحات کوبلاک کیا جا رہا ہے۔