.

داعش تنظیم شام میں دوبارہ نمودار اور عراق میں مضبوط ہو رہی ہے : پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے منگل کے روز جاری ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ شام سے امریکی انخلاء کے ساتھ داعش تنظیم ملک میں "ایک بار پھر نمودار" ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ داعش عراق میں بھی خود کو مضبوط بنا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہزیمت کے باوجود داعش تنظیم نے عراق میں اپنی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے جب کہ شام میں بھی اس نے اپنی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دونوں ملکوں میں داعش کے فعال ہونے کا سبب یہ ہے کہ مقامی فورسز طویل المدت آپریشن جاری رکھنے، ایک وقت میں متعدد آپریشنز کرنے یا واپس لی جانے والی اراضی کو برقرار رکھنے کی قدرت نہیں رکھتی ہیں۔

شام میں داعش تنظیم کا دوبارہ ظہور وہاں سے امریکی افواج کے جزوی انخلاء پر سامنے آیا ہے۔

یاد رہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے 23 مارچ 2018 کو اعلان کیا تھا کہ اس نے داعش تنظیم کی "خلافت" کا خاتمہ کر دیا ہے۔ یہ اعلان شام کے صوبے دیر الزور کے قصبے الباغوز پر سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے کنٹرول کے بعد کیا گیا۔ یہ کنٹرول کئی ماہ تک جاری معرکہ آرائی کے بعد حاصل ہوا جس میں واشنگٹن کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی سپورٹ بھی شامل تھی۔

شام کے مشرق میں معرکوں کے اختتام کے بعد سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے داعش کے خلاف لڑائی کے نئے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ اس مرحلے میں بین الاقوامی اتحاد کی رابطہ کاری سے تنظیم کے غیر فعال گروپوں کا تعاقب کیا جائے گا۔

شام کے مشرق میں داعش تنظیم کے زیر قبضہ علاقے واپس لے لیے جانے کے باوجود تنظیم کے عناصر ابھی تک حمص کے مشری دیہی علاقے سے لے کر عراقی سرحد تک پھیلے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں اور عسکری ماہرین نے باور کرایا ہے کہ داعش کی "خلافت" کے خاتمے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تنظیم کے کنٹرول سے نکل جانے والے علاقوں میں غیر فعال گروپوں کے حرکت میں آنے کا خطرہ بھی دم توڑ چکا ہے۔