.

شدید تنقید کے بعد نیویارک ٹائمز نے اپنی شہ سرخی بدل ڈالی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں معروف اخبار "نیویارک ٹائمز" نے شدید تنقید کی زد میں آنے کے بعد اپنی منگل کی اشاعت میں پہلے صفحے پر شہ سُرخی کو تبدیل کر دیا۔ یہ سرخی ٹیکساس اور اوہایو میں پیش آنے والے واقعات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردّ عمل سے متعلق تھی۔ ان واقعات میں 31 لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اصل سرخی اس طرح تھی : " ٹرمپ کا نسل پرستی کے مقابلے میں یک جہتی پر زور" ...

اس سرخی نے عوام، صحافیوں بالخصوص متعدد ڈیموکریٹس کا غصہ بھڑکا دیا۔ ان میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے لیے بہت سے امیدوار بھی شامل ہیں۔

اخبار کے پہلے صفحے پر اس سرخی کے نمودار ہونے کے تقریبا ایک گھنٹے بعد مذکورہ سرخی میں ترمیم کر دی گئی۔ بعد ازاں اخبار کی مطبوعہ کاپیوں میں متبادل شہ سرخی اس طرح تھی :

" ٹرمپ کی ہتھیاروں پر نہیں نفرت انگیزی پر نکتہ چینی"...

اخبار کی پہلی کاپی کو اُس وقت وسیع پیمانے پر توجہ حاصل ہوئی جب ایک انگریزی نیوز ویب سائٹ FiveThirtyEight کے چیف ایڈیٹر نیٹ سلور نے ٹویٹر پر پہلی والی سرخی پوسٹ کر دی۔ سیلفر نے لکھا کہ "مجھے یقین نہیں (ٹرمپ کا نسل پرستی کے مقابلے میں یک جہتی پر زور) کہ اس کہانی کو کیسے فِٹ کروں؟".

کانگرس کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے اپنی ٹویٹ میں شہ سرخی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے صفحے کو یہ یاد دہانی کرانا چاہیے کہ سفید فام کی برتری میں معاونت کس طرح کی جا سکتی ہے جو بسا اوقات سرچشم اداروں کی بزدلی پر انحصار کرتی ہے۔

پیر کے روز اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نسل پرستی ، تعصب اور سفید فام کی برتری کی مذمت کے واسطے "ایک آواز" کے استعمال پر زور دیا۔

بعض صحافیوں نے شدید تنقید کے مقابل نیویارک ٹائمز کا اور اس کے موقف کا دفاع کیا۔

لاس اینجلس ٹائمز اخبار کے نمائندے ڈیل کوئنٹن ویلبر کے مطابق اخباری سرخیاں تحریر کرنا ایک مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ "آپ وہاں بیٹھ کر پوری کہانی کو 3 یا 4 الفاظ میں سمونے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ... یہ کرداروں پر منحصر ہوتا ہے ... آپ کے سامنے جنونی نوعیت کی ڈیڈ لائن ہوتی ہے"۔