.

طالبان کے بم حملوں سے کابل گونج اٹھا، 95 افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو علی الصباح دارلحکومت کابل میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر بارود سے بھری گاڑی میں دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 95 افراد زخمی ہو گئے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان اہم معاہدے پر دستخط کا وقت جوں جوں قریب آ رہا ہے ملک میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امریکا طالبان معاہدے میں امریکی فوجی کے ملک سے انخلا جیسے امور طے پائیں گے جس کے بدلے میں طالبان واشنگٹن کو افغانستان میں تشدد کی لہر ختم کرنے کی یقین دہانی کرائیں گے۔

دھماکا انتہائی رش کے اوقات میں ہوا، جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔ دھماکے کے بعد متاثرہ مقام سے دھویں کے مرغولے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب ایک کار پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر ناکے پر آ کر رکی۔

وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ اب تک پچانونے زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ان میں بڑی تعداد عام شہریوں، خواتین اور بچوں کی ہے۔

ادھر سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی ادروں نے کابل میں گذشتہ کئی دنوں سے رات کے وقت چھاپوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس میں انھوں نے مسلح افراد کے بڑی تعداد میں ٹھکانے تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔