.

سعودی عرب کے حسین نظاروں نے خاتون سیاح کو یورپ کا حسن بھلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سرزمین اپنے قدرتی حسن، ثقافتی اور تاریخی جادوئی مناظر کے حامل مقامات کے اعتبار سے پوری دنیا کے سیاحوں کے لیے ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی مرہونت منت سعودی عرب کے قدرتی حسن کے بارے میں اندرون اور بیرون ملک سیاحت کا رحجان زور پکڑ رہا ہے۔

حال ہی میں فن لینڈ کی ایک خاتون سیاح نے سعودی عرب کے پہاڑی اور پر فضاء مقام عسیر کا دورہ سیاحتی اور مطالعاتی دورہ کیا۔ وہ عسیر کے قدرتی جمالیاتی حسن کی اسیر ہو کر رہ گئیں۔ فضاء، ماحول، تاریخی اور ثقافتی مقامات نے خاتون سیاح کو یورپ کے حسین نظارے بھلا دیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عسیر کے سیاحتی دورے کے دوران لورا الوہ نے جبل سودہ اور دیگر مقامات کی جی بھر کر سیر کی۔ ان مقامات کے قدرتی حسن نے الوہ کا دل جیت لیا اور وہ انہیں بہترین عالمی سیاحتی مقامات کہے بغیر نہ رہ سکیں۔

لورا نے جبل سودہ کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے سطح سمندر سے 3500 میٹر بلندی کا سفر کیا۔ اس سفرمیں ہائیکنگ کی ایک ٹیم بھی اس کے ہمراہ تھی۔ اس دوران اس نے تاریخی، ثقافتی اور عوامی مقامات کا وزٹ کیا۔ المحتطبہ، رجال المع اور تشکیلی آرٹ کی کنجی کہلانے والےگائوں کی سیر کی۔ ان میں پائے جانے والے قدرتی اور تاریخی مقامات، پرانی تہذیبوں کے کھنڈرات، پُرفضا اور حسین قدرتی مناظر اور عسیر میں موجود پرانے نقش ونگار کے نظاروں کا لطف اٹھایا۔

اگست 2019ء کے اوائل میں لورا الوہ نے جنوبی عسیر کے علاقوں کا سفر شروع کیا۔ اگست میں 'السودہ' پہاڑی علاقوں کی سیاحت کے لیے موسم موزوں ہوتا ہے اور اس سیزن میں سودہ پہاڑی سلسلے اور اس کے اطراف میں سیاحوں کے لیے متعدد پروگرامات ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ یہ سیزن اس علاقے کے قدرتی حسن کو دیکھنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے لورا الوہ نے کہا کہ 'میں نے سعودی عرب کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں بچپن ہی سے سعودی عرب کے سفرکی بے حد شوقین تھی۔ میں نے اپنے بیرون ملک سیاحتی سفر کے لیے سعودی عرب کا اسی لیے انتخاب کیا کیونکہ مملکت اپنے تاریخی اورقدرتی حسین مقامات کے ساتھ ساتھ انسانی تاریخ کا قدیم مرکز ہے اور یہاں پر کئی ثقافتوں کے کھنڈرات موجود ہیں۔ میرے پاس سعودی عرب کے سیاحتی مقامات کی تفصیلات نہیں تھیں مگر جیسے جسیے میں نے سعودی عرب کے تاریخی مقامات کی سیر شروع کی مجھ پران کی اہمیت عیاں ہوتی چلی گئی۔ میں نے جس علاقے یا تاریخی مقام کی سیر کی اسی نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا'۔

ایک سوال کے جواب میں لورا الوہ نے کہا کہ عسیر کی سیر کرتے ہوئے مجھے ویسے تو ہرجگہ بہت اچھی لگی مگر جبل طویق اور مدائن صالح اپنے فطری حسن میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں کا رومانوی موسم بھی کم دلکش نہیں۔ بحیرہ احمر، صحارا، تبوک، العلا، الریاض، جازان اور جزیرہ فرسان سب قابل دید مقامات ہیں۔

لورا الوہ کا کہنا ہے کہ میں سوشل میڈیا پر اپنے سعودی عرب کےدورے اور سیاحتی مقامات کے حوالے سے اپنے دوستوں کو بھی آگاہ کررہی ہوں۔ میں نے سعودی عرب کے سیاحتی اور ثقافتی مطالعاتی دورے کے بارے میں اپنے تجربات اور مشاہدات سے دوسروں کو بھی آگاہ کیا ہے اور ہر ایک ان مقامات کی خوبصورتی کو دیکھ کر مبہوت ہو رہا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ سعودی عرب کے مزید تاریخی مقامات کی سیرکروں اور مملکت کے سیاحتی، قدرتی ، ثقافتی، تہذیبی اور سماجی خزانوں کے بارے میں دوسروں کو بھی بتائوں۔