شام میں مغوی اور لا پتہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں سیاسی امور کی سکریٹری روز میری ڈی کارلو کا کہنا ہے کہ شام میں آٹھ برس سے جاری تنازع میں زیر حراست، مغوی اور لا پتہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ روز میری کے مطابق اس کی مرکزی ذمے داری شامی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

سیاسی امور کی سکریٹری نے بدھ کے روز متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کے مطالبے پر توجہ دیں اور اندھا دھند گرفتار کیے جانے والے ہر شخص کو رہا کریں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی قانون کے مطابق لا پتہ افراد کے اہل خانہ کو ان کے متعلقین کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔

سلامتی کونسل کے سامنے اپنے خطاب میں روز میری نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اس اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکتی کیوں کہ وہ شام میں جائے حراست اور حراست میں لیے گئے افراد تک پہنچنے سے قاصر ہے۔

روز میری کے مطابق ان کی معلومات کا ذریعہ شام میں تحقیقاتی کمیٹی کے ریکارڈ کیے گئے کھاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے زیر انتظام انسانی حقوق کی کونسل اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے 2011 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے مذکورہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

سیاسی امور کی سکریٹری نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے اس مطالبے کو دہرایا کہ شام کی صورت حال کا معاملہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ روز میری کے مطابق انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا احتساب ،،، شام میں پائیدار امن کو یقینی بنانے اور اس کو برقرار رکھنے کے واسطے اہم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں