مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: ملالہ یوسفزئی

’’سات دہائیوں سے کشمیر کے بچے صرف تشدد کے درمیان پروان چڑھے ہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نوبل انعام یافتہ پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ کشمیر کی صورتحال پر بہت پریشان ہوں۔ انھوں نے عالمی برادری اور جنوبی ایشیا سے کشمیریوں کی تکلیف کی جانب توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو پرامن طور پر حل کیا جائے۔

ملالہ یوسف زئی نے ٹویٹر پیغام میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پرغم کا اظہار کیا اور کہا ’’کہ 7 دہائیوں سے کشمیر کے بچے صرف تشدد کے درمیان پروان چڑھے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کو کشیدہ حالات میں سب سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مجھے کشمیری عورتوں اور بچوں کے غیرمحفوظ ہونے پر تشویش لاحق ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اختلافات بھلا کر عورتوں اور بچوں کی حفاظت کو ترجیح دینا چاہیے۔ انہیں کشمیر کی فکر ہے کیوں کہ جنوبی ایشیا ان کا گھر ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی سرکار کے ڈھائے جانے والے مظالم پر انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام صدیوں سے ظلم سہہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ بچپن میں تھیں اور ان کے والدین کے بچپن سے اور ان کے دادا دادی جوان تھے۔ کشمیری اس وقت سے ایسے ہی کشیدہ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ پرامن طریقے سے حال کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یقین ہے کہ ہم سب مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ اور امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ہمیں مزید تکلیف سے گزرنے یا ایک دوسرے کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں۔

ادھر ملالہ یوسفزئی نے کشمیریوں کے حق میں ٹویٹر پر بیان دیا تو بھارتی شہریوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

ملالہ کے بیان کے فوراً بعد ٹویٹر پر ان کے نام کا ٹرینڈ بن گیا۔ بھارتی شہری کنچن شاستری نے ملالہ کے بیان کا طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’جی ملالہ، آپ سو فصد درست ہیں۔ میں بھی اپنے بچپن سے یہ سب دیکھ رہا ہوں۔ اب نریندر مودی کی حکومت نے حل تلاش کر لیا ہے۔ اب کشمیر کے بارے میں مزید تحفظات نہیں ہونے چاہیے۔ کشمیریوں کو ان کا مستقبل اب واضح ہو گیا ہے۔‘

چکرادھرا مہاپترا نے بھی ملالہ کا طنزیہ انداز میں شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’’کہ بھارت کشمیریوں کے لیے 1947 سے مسلسل کام کر رہا ہے اور اگلے دو سے تین سالوں میں کشمیر میں حقیقی ترقی نظر آئے گی۔

ایک اور ٹویٹر صارف اسمت نے چکرادھرا کو طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’کیا وہ اسی نوعیت کی ترقی کا ذکر کر رہے ہیں جو ریاست بہار میں کی گئی ہے۔ انہوں نے ممبئی کی معاشی ترقی کا بھی طعنہ دیا۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں