ملک اس وقت صرف ایردوآن کی عقل پر چل رہا ہے: تُرک صحافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ترکی کے ایک نمایاں صحافی احمد نیسین نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں ترکی کے قونصل خانے کو "ایک درخواست بھجی ہے"۔ اس درخواست میں نیسین نے اپنی "ترکی کی شہریت سے دست بردار" ہونے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ نیسین کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت نہیں رکھتے ہیں۔ چند روز قبل مذکورہ صحافی نے اعلان کیا تھا کہ وہ صدر رجب طیب ایردوآن کی حکمرانی میں ملک میں "آزادی صحافت کے عدم وجود پر احتجاجا" اپنی ترکی کی شہریت چھوڑ دینے کے خواہش مند ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ انٹرویو میں احمد نیسین کا کہنا تھا کہ "اگرچہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے ملک کا شہری نہیں ہے تو وہ اپنی شہریت سے دست بردار نہیں ہو سکتا تاہم میں نے جنیوا میں ترکی کے قونصل خانے میں یہ عرضی ارسال کی ہے کہ میری شہریت واپس لے لی جائے"۔ نیسین نے اس سلسلے میں مشہور ترک شاعر ناظم حکمت کا حوالہ دیا۔ جس وقت ناظم کی ترک شہریت واپس لی گئی اُس وقت وہ کسی دوسرے ملک کے شہری نہیں تھے۔

نیسین کے مطابق 12 ستمبر 1980 کے انقلاب کے بعد میرے کئی دوستوں کو شہریت سے محروم کر دیا گیا۔

ترک صحافی کا کہنا ہے کہ "میری اپنی شہریت سے دست برداری کا مقصد یہ ہے کہ ترک حکومت کو اس بات کا ادراک ہو جائے کہ وہ میری قسمت کے ساتھ کھلواڑ نہیں کر سکتی۔ جب میں واقعتا شہریت سے دست بردار ہو جاؤں تو حکومت کو چاہیے کہ مجھے یہ شہریت میری شناخت اور پاسپورٹ کے ساتھ واپس کرے اور پھر میرے خلاف تحقیقات کا دروازہ کھولے۔ اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو پھر اس کے احکامات قبول کرنا ممکن نہیں۔ ریاست کوئی کھیل نہیں کہ ایردوآن جس طرح چاہیں اسے چلائیں ... پر افسوس کہ وہ ایسا ہی سمجھتے ہیں"۔

نیسین نے 2003 میں ایردوآن کی جماعت "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ" پارٹی کے اقتدار میں آنے پر فرانس میں سیاسی پناہ حاصل کر لی تھی۔ تاہم اس کے بعد 2009 میں نیسین نے فرانس میں اپنے قیام کی نوعیت تبدیل کر لی اور پھر کئی بار ترکی کا دورہ کیا۔

نیسین کے نزدیک ایردوآن اور ان کی جماعت ترکی میں ایک آفت اور مشکل ہے ... اور دنیا کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔

ترک صحافی نے بتایا کہ وہ آزادی اظہار کے سبب 11 روز جیل میں بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے درجنوں دوست اس وقت زیر حراست اور جیل میں ہیں۔

احمد نیسین کے مطابق ترکی میں انصاف اور ترقی (جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ) کی کوئی جماعت نہیں ہے۔ درحقیقت "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی" کا کوئی وجود نہیں بلکہ یقینا صرف ایردوآن کی پارٹی موجود ہے اور یہ اس پارٹی کی تعریف پیش کرنے کا درست طریقہ ہے۔

نیسین نے واضح کیا کہ ایردوآن کے سوا کوئی شخصیت نہیں جس کو ہم گذشتہ 17 برس کے واقعات کا مکمل ذمے دار ٹھہرا سکیں۔ یقینا دیگر شخصیات بھی ہیں مگر اس مرکزی نظام کی جو ایردوآن نے قائم کیا، اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی یہاں تک کہ تمام جرائم اسی کے ساتھ منسوب کیے جاتے ہیں۔ دیگر جن لوگوں نے جرائم کا ارتکاب کیا وہ بھی ایردوآن کے احکامات پر کیا۔

احمد نیسین نے چند سال قبل ایردوآن کے لُبلبے کے آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ "اس دوران ایک ہفتے تک حکومت کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ حکومت نے تمام مقررہ اجلاس منسوخ کر دیے اور ایک ہفتے کی چھٹی دے دی۔ یہ سب کچھ فلموں میں ہوتا ہے۔ اس طرح ترکی کا انتظام چل رہا ہے .. صرف ایک شخص کے ہاتھوں نہیں بلکہ محض ایک عقل کے ہاتھوں اور وہ ایردوآن کی عقل ہے"۔

جولائی 2016 میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد سے ترکی کی حکومت نے ملک میں درجنوں میڈیا اداروں کی بندش کر ڈالی۔ اس وقت سے بہت سے صحافی جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں جب کہ سیکڑوں کو ان کی ملازمتوں سے نکال دیا گیا اور دیگر لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اس سب کے باوجود بعض صحافیوں کے خلاف عمر قید کے عدالتی فیصلے جاری ہوئے۔ ان میں "جمہوريت" اخبار کے سابق چیف ایڈیٹر جان دوندار شامل ہیں۔ دوندار ان دنوں جرمنی میں مقیم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں