.

ترکی کے معاشی بحران کا نزلہ شامی پناہ گزینوں پر گرنے لگا: سی این این

شامی پناہ گزین قربانی کا بکرا بنا دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ کچھ عرصے سے ترکی کی حکومت نے شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے ایک نئی پالیسی اپنا رکھی ہے جس کے تحت پناہ گزینوں کو واپس ان کے ملک میں دھکیلنے اور ترکی میں ان پر زمین تنگ کی جا رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ترکی میں معاشی بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور معاشی بحران کے نتیجے میں قربانی شامی پناہ گزینوں کو قربانی دینا پڑ رہی ہے۔

شام سے تعلق رکھنے والے ایک 33 سالہ شہری بہا نے کہا کہ وہ عام پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے استنبول میں واقع کارخانے میں ملازمت کے لیے نہیں جا سکتا۔ مجھے علی الصبح ایک دوسرے راستے سے چھپ چھپا کر فیکٹری پہنچنا پڑتا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل 'سی این این' سے بات کرتے ہوئے ایک دوسرے شامی پناہ گزین نے بتایا کہ میں عام بسوں پر سوار ہو کر فیکٹری جاتا مگر اب مجھے متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ استنبول میں موجود فلسطینی پناہ گزین خوف اور دہشت کا شکار ہیں۔ ترک حکام شامی پناہ گزینوں شہر سے بے دخل کر رہے ہیں۔ جس شامی شہری کا نام استنبول میں عارضی طور پر رہائش پذیر افراد میں درج نہیں اسے طاقت کے ذریعے وہاں سے بے دخل کیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے ترکی شامی پناہ گزینوں کو تمام مسلمہ حقوق دینے کا پابند ہے مگر استنبول حکومت عارضی طورپر شامی پناہ گزینوں کو بعض سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ مجموعی طور پر 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو وہ بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔

استنبول حکومت نے پہلے کی نسبت شامی پناہ گزینوں کے لیے ضوابط سخت کردیے ہیں۔ جو شامی پناہ گزین استنبول کے سوا کسی دوسرے شہر میں رجسٹر ہیں انہیں ہر صورت میں 20 اگست سے قبل شہر چھوڑنا اور اسی علاقے میں جانا پڑے گا جہاں وہ رجسٹر ہیں۔

اس کے علاوہ ایسے شامی پناہ گزین جو روزگار کے لیے اہل نہیں وہ عارضی تحفظ کے تحت قیام کر سکتے ہیں مگر انہیں بھی استنبول سے نکلنا اور ترکی کے دوسرے شہروں میں جانا پڑے گا۔

ترک حکومت کا یہ پیغام بہاء جیسے شامی پناہ گزینوں کے لیے خوف کا پیغام ہے۔ وہ کپڑے کی فیکٹری میں انتہائی معمولی اجرت پر کام کرتا ہے اور حکومت کی طرف سے استنبول سے نکلنے کے احکامات سے وہ اس معمولی آمدن سے بھی محروم ہوسکتا ہے۔

ایک شامی شہری کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات پولیس کے لیے شامی پناہ گزینوں کو پکڑنے کے لیے موزوں ہیں۔ ترک پولیس شامی پناہ گزینوں کو گرفتار کر کے انہیں واپس شام کی سرحد سے اندر دھکیل سکتی ہے۔ وہ پہلے ہی اپنا سب کچھ چھوڑ کر موت سے بچتے ہوئے ترکی پہنچے ہیں۔

تاہم دوسری طرف ترک حکومت شامی پناہ گزینوں کی بے دخلی کے کسی بھی منصوبے کی تردید کرتی ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ انقرہ شامی پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی کی سہولیات پیدا کر رہی ہے۔ مگر بعض شامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ترک حکام نے ان سے زبردستی واپسی کے لیے تیار کردہ دستاویزات پر دستخط کرائے گئے ہیں۔

شامی پناہ گزین عمرو دعبول جو ترکی سے یونان کے سفر کے لیے ایک کشتی کے ذریعے روانہ ہوا اسے ترک کوسٹ گارڈ نے روک لیا اور کشتی سے اتار کر ایک حراستی مرکز پہنچا دیا گیا۔

رہائی کے بعد دعبول نے بتایا کہ اس وقت بھی ترکی کی جیلوں میں کئی شامی پناہ گزین قید ہیں۔ ان میں سے بعض کو ایک ماہ ماہ تک قید میں رکھا گیا ہے۔ یہ وہ شامی ہیں جو واپس شام جانے کے لیے کاغذات پردستخط کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ انہیں جیل میں قید کرکے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ قید یا شام واپسی میں سے کوئی ایک راستہ چن لیں۔