.

عراق کی سابقہ ملکہ حسن کی امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سابقہ ملکہ حسن (2017) سارہ عیدان نے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی صومالی نژاد امریکی رکن کانگرس الہان عمر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی چینل فوکس نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام "سارہ کارٹر" میں سارہ عیدان کا کہنا تھا کہ "الہان عمر بطور مسلمان میری نمائندگی نہیں کرتی ہیں اور نہ وہ مشرق وسطی میں کروڑوں مسلمانوں کی ترجمان ہیں"۔

ادھر الہان عمر نے اپنی ٹویٹ میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ "میں (ممکنہ طور پر) ملکہ حسن کی نمائندگی نہیں کرتی کیوں کہ سارہ اُس کاؤنٹی میں نہیں رہتی ہیں جس کی نمائندگی میں کانگرس میں کرتی ہوں"۔

سارہ عیدان نے مینی سوٹا سے تعلق رکھنے والی رکن کانگرس الہان عمر کے بارے میں کہا کہ وہ "امریکا مخالف" ایجنڈا رکھتی ہیں۔

ایک دوسری ٹویٹ میں عراق کی سابقہ ملکہ حسن نے الہان عمر پر الزام عائد کیا کہ وہ خود اسی نظریے کو برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ (سارہ) مشرق وسطی سے فرار ہوئی تھیں۔

سارہ کے مطابق وہ اس امریکا مخالف اور زہر آلود ایجنڈے کی تائید نہیں کرتی ہیں "جس میں جمہوریت کو آپ اپنے اور اپنے دوستوں کے مقاصد کو مضبوط بنانے کے واسطے استعمال کریں تا کہ ہمارے ملک کو تقسیم اور کمزور کیا جائے"۔

فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں سارہ نے مزید کہا کہ "یقینا الہان عمر اور رشیدہ طلیب (مشی گن سے رکن پارلیمنٹ) جیسی خواتین ملک پر نکتہ چینی کر کے ... تنوع پسندی پر لبرلز کی توجہ کا فائدہ اٹھاتی ہیں ... یہ دوسرے لوگوں کی ہمدردیوں سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں"۔

یاد رہے کہ سارہ عیدان نے عراق میں پرورش پائی۔ انہوں نے عراقی عوام کے ساتھ صدام حسین کے طریقہ کار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح وہ 2017 میں انسٹاگرام پر اسرائیل کی ملکہ حسن کے ساتھ تصویر نشر ہونے کے بعد عراق سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئی تھیں