عالمی ادارہ صحت کا 'صنعا' کے دفتر میں کرپشن کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ایج او کے یمن میں مقامی شراکت داروں کے ساتھ طے پائے بعض معاہدے ختم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی ادارہ حوثی باغیوں کے زیر تسلط صنعاء میں موجود اپنے دفتر میں کرپشن کا اعتراف کر چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ عالمی ادارہ سنہ 2018ء کے پروگرام پر نظر ثانی کرے گا۔ یمن میں تنظیم کا نیا ڈائریکٹر اور ملازمین تعینات کیے جائیں گے اور موجودہ انتظامیہ کو ہٹا دیا جائے گا۔

بیان میں یقین دلایا گیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک یمن میں عالمی ادارہ صحت کی سرگرمیوں کی رپورٹ آنے کے بعد مبینہ بدعنوانی کے واقعات کا حل نکال لیا جائے گا۔ بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ مالیاتی اور انتظامی ضابطہ کار کے حوالے سے یمن سے مایوس کن خبریں مل رہی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت یمن میں با صلاحیت، تجربہ کار اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والا عملہ تعینات کرے گا۔

قبل ازیں نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے انکشاف کیا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کے ملازمین کے ہاں ہونے والی کرپشن کی اقوام متحدہ کی جانب سے تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے عالمی ادارہ صحت کے دفاتر سے لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لے لیے جو کرپشن کا واضح ثبوت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صنعاء میں کرپشن کرنے والے عہدیداروں کے ملک سے فرار کے امکانات موجود ہیں۔

ادھر یمن کی آئینی حکومت نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت کے مراکز میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کرے اور یمن میں حوثی باغیوں کے ہاں قائم دفاتر میں عملے پر نظر ثانی کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں