یمن: جنوبی قومی اتحاد نے عدن کے واقعات کا ذمے دار "عبوری کونسل" کو ٹھہرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں جنوبی قومی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے عدن صوبے میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعات پر پوری توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور اسے ان واقعات پر گہری تشویش ہے۔

اتحاد نے ایک بیان میں کہا کہ اس شر انگیزی کی منصوبہ بندی اور اسے بھڑکانے میں باغی حوثی ملیشیا کا ہاتھ ہے جو یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حیثیت کی مخالف ہے۔ اتحاد کے مطابق ان واقعات کا جنوب کے قضیے سے اور عدن صوبے اور اس کے باسیوں سے کوئی تعلق نہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ صورت حال کی تمام تر ذمے داری عبوری کونسل کے نائب سربراہ ہانی بن بریک اور ان کے ساتھیوں پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ انہوں نے آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کی اور ریاست کے سامنے ہتھیار اٹھا کر جانی اور مادی نقصانات کا سبب بنے۔

اسی طرح اتحاد کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوب کے لوگوں کے اندر فتنہ برپا کرنے کے لیے نظام اور قانون کے دائرہ کار سے باہر مسلح جتھوں کی قیادت کو سپورٹ کرنا .. ایک ایسا جرم ہے جو عدن صوبے کے وجود اور امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

جنوبی قومی اتحاد نے یمنی صدر اور حکومت کے سربراہ سے مطالبہ کیا کہ وہ عدن میں انارکی، تباہی اور تخریب کاری کی دعوت دینے والوں اور سرپرستی کرنے والوں پر روک لگانے کے واسطے کام کریں۔ اتحاد نے صدر عبدر بہ منصور ہادی کے لیے اپنی حمایت کو دُہرایا۔

یاد رہے کہ ہفتے کی صبح یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں ایوان صدر کے محافظ بریگیڈ 4 کے اندر ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب عدن میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے علاوہ خور مکسر شہر میں جبل حدید اور دیگر مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ صدارتی محافظ بریگیڈ کے ہیڈکواٹرز اور اس کے اطراف میں دونوں متحارب فریقین مختلف نوعیت کا اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔

طبی ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والی لڑائی میں 8 عام شہری ہلاک ہو گئے۔ یہ جھڑپیں عدن میں حکومتی فورسز اور علاحدگی پسندوں کے درمیان جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں