ناروے میں مسجد پرحملہ آور شرپسند کی خاتون ساتھی پراسرارطور پرقتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ناروے کی پولیس نے بتایا ہے کہ ہفتے کی شب دارالحکومت اوسلو میں ایک گھر سے ایک خاتون کی لاش ملی ہے جو ہفتے کے روز شہر کی ایک مسجد پرحملہ کرنے والے شخص کی قریبی بتائی جاتی ہے۔ مسجد پرحملہ کرنے والے شرپسند کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے جب کہ مسجد پر فائرنگ سےایک شخص زخمی ہوگیا تھا۔

اوسلو پولیس کے ترجمان رورن سکیولڈ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسجد پرحملے میں ملوث شخص کی قریبی خاتون کی اس کے فلیٹ میں پراسرار موت سے بہت سے شبہات جنم لے رہےہیں۔ ترجمان کاکہنا تھا کہ مسجد پرفائرنگ کرنے والے شخص کے فلیٹ میں مردہ پائی گئی خاتون کے ساتھ رابطے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد پرفائرنگ کرنے والے شخص کے سابقہ ریکارڈ میں اس کے کسی قسم کے جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

خیال رہے کہ ہفتے کو ایک مسلح شخص نے مسجد النور پر فائرنگ کردی تھی۔ اس وقت مسجد میں صرف تین افراد موجود تھے۔ فائرنگ سے ان میں سےایک شخص زخمی ہوگیا تھا۔ حملہ آور نے بلٹ پروف جیکٹ اور ہلمٹ پہن رکھا تھا۔ مسجد کی انتظامیہ کے ایک رکن عرفان مشتاق نے بتایا کہ مسجد میں موجود ایک شخص نے حملہ آور کو دبوچ کرقابو کرلیا۔ حملہ آور سفید فام نسل سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں