.

جان بولٹن کا دورہ لندن، ایران کے خلاف موقف سخت کرنے کے لیے دباو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیرجان بولٹن نے اس وقت برطانیہ کے دورے کے دوران لندن میں ہیں جہاں وہ برطانوی حکام کے ساتھ دو طرفہ امور اور عالمی مسائل پر بات چیت کررہے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جان بولٹن برطانیہ پر ایران اور چینی ٹیکنالوجی کمپنی 'ہواوے' کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے پر زور دیں گے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر ایک ایسے وقت میں برطانیہ کا دورہ کررہے ہیں جب 31 اکتوبر کو برطانیہ یورپی یونین سے مکمل طور علاحدہ ہو رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ سب سے بڑی جیو ۔ پولیٹیکل تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔ یورپی یونین سے علاحدگی کے بعد برطانیہ کا امریکا پرانحصار مزید بڑھ جائے گا۔

جان بولٹن اپنے دو روزہ دورے کے دوران برطانوی حکام کے ساتھ یورپی یونین سے نکلنے، وائٹ ہائوس اور لندن کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے، مشرق وسطیٰ میں ایرانی مداخلت اور تہران کی جوہری سرگرمیوں اور چینی کمپنی 'ہواوے' کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے اور امریکی حکومت کے درمیان بعض امور پرکشیدگی رہی ہے۔ برطانیہ کی نئی حکومت بالخصوص وزیراعظم بورس جانس امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوشش کررہےہیں۔

جان بولٹن برطانوی حکام کو ایران کے خلاف موقف سخت کرنے پر زور دیں گے۔ اس کے علاوہ ایران پرعاید کی گئی پابندیوں میں برطانیہ کو شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔

فی الحال برطانیہ یورپی یونین کے اس موقف کا حامی ہے جس میں ایران کے ساتھ سنہ 2015ء کو طے پائے معاہدے کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ یورپی ممالک اور ایران نے 'مشترکہ جامع ایکشن پلان' کے عنوان سے ایک نیا پروگرام تیارکیا ہے۔ مگر اس کے باوجود ایران اور برطانیہ کے درمیان حالیہ ہفتوں کےدوران کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ چار جولائی کو ایران نے آبنائے ہرمز سے ایران کے دو تیل بردار جہاز قبضے میں لے لیے تھے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سخت تنائو پایا جا رہا ہے۔