.

جبرالٹر کا تحویل میں لیے جہاز بارے ایرانی خبر کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جبل الطارق (جبرالٹر) کی حکومت نے منگل کے روز جاری ایک بیان میں ایرانی خبررساں اداروں کی طرف سے جاری کردہ اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جبرالٹر کے قبضے میں موجود ایرانی تیل بردار جہاز 'گریس1' برطانوی علاقے سے روانہ ہوگیا ہے۔

قبل ازیں ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی 'فارس' نے حکام کےحوالےسے بتایا تھا کہ جبل الطارق کے حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا ہے کہ 'گریس 1' کو منگل کے روز چھوڑ دیاجائے گا۔

دوسری جانبب جبل الطارق کی حکومت نے ایرانی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کو جھوٹ قرار دیا ہے تاہم ساتھ ہی کہا ہے جبرالٹر کی حکومت اس معاملے کو زیادہ اچھالنا نہیں چاہتی۔

دوسری طرف برطانیہ نے کہا ہے کہ ایرانی تیل بردار جہاز کے بارے میں تحقیقات جبل الطارق کی حکومت کا معاملہ ہے۔ برطانوی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 'گریس1' کے جبل الطارق میں روکے جانے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔تحقیقات کے دوران اس حوالے سے کوئی بیان دینا مناسب نہیں۔

خیال رہے کہ برطانیہ کی رائل نیول فورس نے چار جولائی کو جبل الطارق کےساحل کے قریب سے ایرانی تیل بردار جہاز'گریز1' قبضے میں لے لیا تھا۔ برطانیہ کو شبہ ہے کہ تیل بردار جہاز کو شام لے جایا جا رہا تھا جو کہ یورپی یونین کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی شمار کی جاتی ہے۔