.

پروفیسر طارق رمضان کے خلاف عصمت دری کا چوتھا مقدمہ تیار؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی اور سوئس میڈیا کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے تحقیق کار رواں سال الاخوان المسلمین تنظیم کے بانی کے نواسے پروفیسر طارق رمضان کے ساتھ فرانس میں پوچھ گچھ کریں گے۔ یہ تحقیقات رمضان کے خلاف آبرو ریزی کے چوتھے مقدمے کے سلسلے میں ہو گی۔ یہ مقدمہ ایک خاتون نے گزشتہ برس جنیوا میں دائر کیا تھا۔

مذکورہ میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں میں موجود عدلیہ کے حکام کے بیچ رابطہ کاری جاری ہے تا کہ تحقیقات کی تاریخ مقرر کی جا سکے۔ یہ بات یقینی ہے کہ تحقیقات کا عمل آئندہ موسم خزاں میں ہو گا۔

رمضان کو آبرو ریزی کے تین مقدمات میں 3.4 لاکھ امریکی ڈالر کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا تاہم وہ فرانس سے باہر نہیں جا سکتے۔

فرانسیسی اخبار لیبراسیون نے جنیوا میں محکمہ انصاف کے ترجمان مارک گینیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ فرانس کے حکام رمضان کو جنیوا کا سفر کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ فرانسیسی ججز ہی ملزم کے مقدمے کی سماعت کی تاریخ مقرر کریں گے۔

فرانسیسی وزارت انصاف نے 22 جنوری کو رمضان کے جنیوا میں تحقیق کاروں کے سامنے پیش ہونے سے متعلق سوئٹزرلینڈ کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ فرانسیسی حکام کے مطابق انہوں نے یہ فیصلہ رمضان کے فرار ہونے کے اندیشے کے سبب کیا۔

طارق رمضان 1962 میں سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوا اور 1984 میں اس نے سوئس شہریت حاصل کر لی تھی۔

جنیوا میں گذشتہ برس سامنے آنے والے چوتھے کیس میں مدعی خاتون بریجیٹ (فرضی نام) نے طارق رمضان پر الزام عائد کیا ہے کہ 2008 میں 28 اور 29 اکتوبر کی درمیانی شب جنیوا میں ایک ہوٹل کے کمرے میں طارق رمضان نے اس خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

بریجیٹ نے یہ مقدمہ اپریل 2018 میں دائر کیا تھا۔ اس سے چند ماہ قبل فرانسیسی پولیس نے رمضان کو ایک تیونسی نژاد فرانسیسی خاتون ہندہ عیاری کی جانب سے دائر کیے جانے والے عصمت دری کے کیس کی بنیاد پر گرفتار کر لیا تھا۔

فرانس میں تحقیقات کے دوران طارق نے دومدعی خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کا اعتراف کر لیا تھا تاہم اس نے آبروریزی کے الزام کو مسترد کر دیا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں عدلیہ کے حکام کے درمیان مذاکرات طویل ہونے کے سبب شکایت کنندہ خاتون بریجیٹ سرکاری طور پر معاملے کو اپنے ملک میں عدلیہ میں پیش کرنے پر مجبور ہو گئی۔ بریجیٹ نے "انصاف کے عمل میں تعطل" کی شکایت کی۔ اس پر مسئلے کا جلد حل نکالتے ہوئے رمضان سے پوچھ گچھ کے لیے تحقیق کاروں کے جنیوا سے پیرس جانے کا فیصلہ کیا گیا۔